30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذکر خطام کے لئے فقیر نے جتنی کتب حدیث اپنے پاس ہیں سب کی مراجعت چاہی،بارہ کتابیں دیکھی تھیں،پھر خیال آیا کہ درایہ امام حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانی دیکھی جائے،اس میں ضرور اس سے تعرض فرمایا ہوگا اسے دیکھا تو انھوں نے صاف فرمایا:
|
لم ار فی شیئ من طرفۃ ذکر الخطام [1]۔ |
میں نے اس حدیث کے کسی طریق میں ذکر خطام نہ دیکھا۔ |
بالجملہ صحیحین کی طرف سے اس کی نسبت لفظا ومعنی ہر طرح غلط ہے۔ہاں ہدایہ باب الہدی میں حدیث انھیں الفاظ سے مذکور اور کتاب الاضحیہ میں بلفظ:
|
تصدق بجلالہا وخطا مہا ولا تعط اجر الجزار منہا شیئا [2]۔ |
قربانی کے جانوروں کی جھلوں اور باگوں کو صدقہ کر اور اس میں سے کچھ بھی قصاب کو بطور اجرت مت دے۔(ت) |
اسی طرح کافی امام نسفی باب الہدی میں یہی لفظ دوم ہیں:الالفظۃ الاجر [3](سوائے لفظ"اجر"کے۔ت)نیز بدائع امام ملك العلماء کتاب الاضحیہ میں۔الا لفظۃ شیئا [4](سوائے لفظ"شیئا"کے۔ت)
اقول: تو حدیث ضرور کہیں مروی ہوئی،اور حافظ(ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ)کا اسے نہ دیکھنا نہ ہونے پر دلیل نہیں،امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں دو حدیثیں مذکور مشاع ذکر کرکے فرمایا:
|
قصور نظر نا اخفاھما عنا [5]۔ |
ہماری نظر کے قاصر ہونے نے ان دونوں کو ہم سے مخفی رکھا۔(ت) |
یونہی حافظ الشان نے باوصف اس وسعت اطلاع کے نفی نہ فرمائی،یہ ائمہ کے ساتھ علماء کرام کا ادب ہے بخلاف جہال زمانہ یعنی غیر مقلدین کہ کرمك سنگ سے بڑھ کر وقوف نہیں،اورائمہ پر سلب مطلق کے دعوے ولا حو ل ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع