30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا فعل ذٰلك بل الدلیل ناطق بخلافہ فان المانع انما ھو قصد التمول وھذا بمعزلہ عنہ،والمسوغ کما تبین بکلام التبیین قصد القربۃ وھذا،فلنقتصر علی ھذا القدر،حامدین لربنا فی الورد والصدر،ہذا ما ظہر لفہمی القاصر وفکری الفاتر ومعاذاﷲ ان ابری نفسی من الخطأ والزلل واصر علی رائی بعد وضوح الخلل وسبحن اﷲ الیش انا والیش رأیی و انما النقص بضاعتی والخطأصنا عتی،والجھل صفتی و العجزسمتی فان اصابت فبتوفیق ربی،ولہ الحمد فی کل اٰن وحین،وان اخطأت فبشوم ذنبی و اسأل التوبۃ ارحم الراحمین،والحمدﷲ العزیز الوہاب،والصلاۃ والسلام علی النبی الاواب والہ و صحبہ خیر آل واصحاب واذا انتھت الرسالۃ بحمدی ذی الجلالۃ وددت ان اسمیہا بعلم لطیف، یکون علما علی عامۃ التالیف،کما ہو دأبی فی جمیع التصانیف وقد جاءت بحمداﷲ تعالٰی مختصرۃ ومع الاختصار مطہرۃ مظہرۃ،فناسب ان اسمیہا،"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"وکان ذٰلك ضحوۃ الخمیس للیلۃ بقیت من ذی القعدۃ الحرام سنۃ الف وثلثمائۃ وسبع من |
ہونا ثابت ہو اور جس چیز کو ممانعت پر دلیل قائم ہے وہ بیع بقصدتمول ہے۔اور ان دونوں میں بون بعید ہے۔اور قربانی کے اجزاء سے قصد تقرب جائز ہے۔اور یہ بیع اسی لئے ہے۔ اس لئے اس کے جائز ہونے میں شبہ نہیں۔ اب ہم اس پر بس کرتے ہیں،اور ابتداء وانتہا میں اپنے رب کی حمد کرتے ہیں،میں اپنے نفس کو خطا ولغزش سے بری نہیں گردانتا اور خلل ظاہر ہونے کے بعد میں اپنی رائے پر اصرار بھی نہیں کرتا،سبحان الله ! میں کیا اور میری رائے کیا، نقصان ہی میری پونجھی ہے اور خطا شان بندگی،لاعلمی میری صفت اور عاجزی میرانشان اگر یہ ٹھیك ہو تو میرے رب کی توفیق سے ہے۔اور اسی کے لئے ہر دم تعریف،اور غلط ہو تو میرے گناہوں کی برائی،میں الله کی جناب میں توبہ کرتاہوں اور اس کی حمد بجالاتاہوں،اور اس کی حمد پر یہ رسالہ ختم ہوا۔
اس کا ایك لطیف نام(جس سے میرے طریقہ کے مطابق کتاب کا بھی سن تالیف بھی ظاہر ہو)کی تلاش ہوئی تو اس کا نام "الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلو دالاضحیۃ"رکھا،اور یہ پنجشنبہ کے روز چاشت کے وقت ۲۹ ذوالحجہ ۱۳۰۷ ھ میں ہوا۔ اور نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اور ان کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع