30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلو کان المراد بالصدقۃ ہو المعنی الاخص لما انطبق الدلیل علی المدعی کما لا یخفی،واذ قد علمت ان الصدقۃ لہا اطلاقات وان لزوم التملیك انما ہو فی المعنی الاول وانہ غیر مراد ہہنا،وجب ان لایکون مرادا ایضا قولہم یتصدق بجلدہا فان التصدق ھہنا ھو عین التصدق فی قولہم یتصدق بالثلث یرشد ك الیہ تعلیل الہدایۃ بقولہ لانہ کجزء منھا فثبت ان لیس تصدق الجلد ممایقتصر علی التملیك حتی لو صنع منہ دلوا،ووقفہ علی بئر مسجد لیستسقی المتوضؤون جاز عــــــہ قطعا فسقط الاحتجاج رأسا۔ بقی انہ اذ لیس المراد الاول فای البواقی یراد وانما البینۃ علی من یدعی،نعم ان سألتنا التبرع،فنقول حدیث نبیشہ الخیر الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یہدینا الی مطلق الائتجار الحاصل بسائر وجوہ القرب، فلیکن المراد ھو المعنی الرابع،وہو الغالب فی الصدقات النافلۃ۔ |
اب اگر صاحب ہدایہ کے قول"صدقہ ثلث سے کم نہ ہو "میں لفظ صدقہ سے مراد وہ نہیں جس میں تملیك ضروری ہو،ا ور جب گوشت میں یہ ثابت ہوچکا تو حسب قول ہدایہ، "کھال بھی قربانی ہی کا جزہے"کھال کا بھی یہی حکم ہوگا کہ اس میں بھی تملیك ضروری نہ ہوگی مسجد میں پانی نکالنے کے لئے اس کا ڈول بن سکتاہے۔القصہ ان لوگوں کا ہدایہ اور کافی وغیرہ سے استدلال ساقط ہے۔
اب ایك رہ گیا،قربانی میں اگر صدقہ بمعنی اول مراد نہیں،تو بقیہ معانی میں سے کون سے معنی مراد ہیں،اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ہمیں تو تملیك والے صدقہ کی نفی سے کام تھا،جب یہ مراد نہیں تو صدقہ اور جس معنی میں مراد لیا جائے ہمارا مقصد حاصل ہے۔مگر تبرعا ہم وہ بھی بتادیتے ہیں۔ |
|
عــــــہ: ای علی المفتی بہ من جواز وقف المنقول حیث تعورف وقد تعارف المسلمون وقف الدلو والرشاعلی اٰبارا لمساجد اھ ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز |
یعنی مفتی بہ قول پر کہ منقول چیز کا وقف جائز ہے جب متعارف ہو اور بیشك مسلمانوں میں ڈول اور رسی وغیرہ مساجد کے کنوؤں کے لئے مروج ہے اھ ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع