30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مسجد اخر،لیس لاہل المسجد ان یبیعوہ و یستعینوا بثمنہ فی مسجد اٰخر عند ابی یوسف خلافا لمحمد وعلیہ الفتوٰی [1]۔وذلك ان المسجد اذا خرب والعیاذ باﷲ واستغنٰی عنہ یعود عند محمد الی ملك البانی،کما فی التنویر وغیرہ فاذا لم یعرف بانیہ صار لقطۃ،وقد قال الامام محمد ح صرفہ الی مسجد اخر فعلم ان التصدق الماموربہ فی اللقطۃ ہو بہذا المعنی الرابع الداخل فیہ الصرف الی المقابر والحیاض والمساجد وہذا الا طلاقات کلہا فقہیۃ کما ترٰی۔
الخامس قد یتوسع فیقطع النظر عن قید المال ایضا،ویطلق علی کل نفع للغیر بایصال الخیر اودفع الضیر کیفما کان ومن ذٰلك حدیث تکرار |
میں صرف کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ تو جب ہمچوں قسم کی اشیاء کاحکم لقطہ کاہوا تو یہ بات صاف ہوگئی کہ اس کا حکم صدقہ کرناہے۔ہاں پانے والا فقیر ہو تو اپنے او پر خرچ کرے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔بلکہ درمختار میں عمدہ سے نقل کیا کہ فقیر نے لقطہ پایا اور اس کو اپنے اوپر خرچ کیا،پھر مالدار ہوگیا تو اس کا صدقہ کرے،اگر چہ فتوٰی اس کے خلاف ہے۔(بحر ونہر عن الولوالجیہ وجامع الرموز من الظہیریۃ) میں کہتاہوں قرین قیاس بھی یہی ہے کہ صدقہ اپنے محل کو پہنچ گیا،تو حالت کے بدلنے سے اس کا حکم نہیں بدلے گا،جیسے فقیر مال زکوٰۃ کھاتا رہا اب مالدا ر ہوگیا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جتنی زکوٰۃ کھائی سب واپس کر اور فقیر وں پر صدقہ کر۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایسے مال کاحکم صدقہ کا ہے اور اسی کو عمارت مقبرہ اور اصلاح حوض میں صرف کا حکم دیتے ہیں، میں صرف کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ صدقہ کا یہ اطلاق اسی چوتھے معنی میں ہے اور اس کا مقابر،حوض اور مسجد میں صر ف کرنا صدقہ ہی ہے حالانکہ نہ یہاں تملیك نہ اباحت،نہ مالدار نہ فقیر،اور یہ بھی واضح ہو کہ یہ سارے اطلاقات فقہیہ ہیں۔ (۵)کبھی صدقہ سے مال ہونے کی قید بھی ختم کردیجاتی ہے اور مطلقًا غیر کو نفع پہنچانے،اور اس سے ضرر دفع کرنے کو صدقہ کہا جاتاہے۔اس کی مثال وہ حدیث ہے کہ منفرد کے ساتھ مل کر جماعت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع