30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان مات،وکذا البناء فی الدار التی جعلہا مقبرۃ [1] اھ۔ ومعلوم ان حکم اللقطۃ ھو التصدق الا ان یکون الملتقط فقیرا،فیصرف الی نفسہ وھو ایضا من باب التصدق من المالک،بل قال فی الدرالمختار عن العمدۃ وجد لقطۃ وعرفہا ولم یر ربہا فانتفع بہا لفقرہ ثم ایسر یجب علیہ،ان یتصدق بمثلہ [2] اھ وان کان المختار خلافہ کما فی البحر والنہر،عن الولو الجیۃ والہندیۃ وجامع الرموز عن الظہیریۃ قلت لان الصدقۃ اصابت محلہا فلا تتغیر بتغیر حالہ کفقیر اخذ الزکوٰۃ ثم ایسر لیس علیہ ردھا، وبالجملۃ الحکم ھہنا التصدق وقد نصوا علی جوازصرفہ الی عمارۃ المقبرۃ واصلاح الحوض،ومن ذٰلك مافی الرحمانیۃ عن الاجناس اذا خرب مسجد ولا یعرف بانیہ وبنی اھل المسجد مسجد ا آخر ثم اجمعوا علی بیعہ،واستعانوا بثمنہ فی ثمن المسجد الاٰخر فلا باس بہ،وہذا قول محمد خلافا لابی یوسف فانہ مسجد ابدا عندہ [3] اھ وفی السراجیۃ مسجد عتیق لایعرف بانیہ خربت فاتخذ بجنبہ |
ہوں گے،او روہ مرگیا تو اس کے ورثہ کی ملك ہوں گے،اور یہی حکم اس کمرہ کا ہے جو ایسے دار میں ہو جس کو مقبرہ کردیا گیا ہو۔" رحمانیہ کا جزئیہ ہے:"مسجد ویران ہوگئی جس کے بانی کا پتہ نہیں اور لوگوں نے دوسری مسجد بنالی،پھر ان کی رائے ہوئی کہ ویران مسجد بیچ کر اس کی قیمت اس مسجد میں لگائیں،تو امام محمد کے نزدیك اس میں حرج نہیں،اور قاضی ابویوسف کے نزدیك وہ ایسانہیں کرسکتے کہ وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی" سراجیہ میں ہے:"پرانی مسجد جس کے بانی کا پتہ نہیں وہ ویران ہوگئی لوگوں نے اسی کے قریب دوسری مسجد بنالی،تو قاضی ابویوسف کے نزدیك ویران مسجد کا سامان بیچ کر آباد مسجدمیں نہیں لگا سکتے،اور امام محمد کو اس میں اختلاف ہے۔اورفتوٰی قاضی ابویوسف رحمہ الله تعالٰی کے قول پر ہے" اس کی وجہ وہی ہے کہ مسجد ڈھے کر ناقابل استعمال ہوگئی اور لوگ مستغنی ہوگئے،تو امام محمد رحمۃ الله تعالٰی علیہ کے نزدیك اس کا مالك بانی ہوجاتاہے۔اور جب بانی کا پتہ نہ چلے تو وہ لقطہ ہوگئی،اور امام محمد رحمۃ الله علیہ اس کو دوسری مسجد کی تعمیر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع