30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الولوالجیۃ وکثیر من الکتب لو نزح ماء بئر رجل بغیر اذنہ حتی یبست لاشیئ علیہ عــــــہ لان صاحب البئر غیر مالك للماء [1] اھ فاذن لایکون الا تقربا الی اﷲ تعالٰی بتصرف فی مالہ لنفع المسلمین وعلی ھذا سائر القرب المالیۃ سواء فی دخولہا فی معنی الصدقۃ۔ وقد قال الامام فقیہ النفس قاضی خاں فی الخانیۃ قریۃ فیہا بئر مطویۃ بالاٰجر خربت القریۃ، و انقرض اھلہا وبقرب ہذہ القریۃ قریۃ اخرٰی فیہا حوض یحتاج الی الاٰجر فارادوا ان ینقلوا الاجر من القریۃ التی خربت ویجعلوھا فی ھذا الحوض،قالوا ان عرف بانی تلك البئر لا یجوز صرف الاٰجر الا باذنہ، لانہ عادالی مبلکہ وان لم یعرف البانی قالوا الطریق فی ذٰلك ان |
فتاوٰی خیریہ،ولوالجیہ وغیرہ بہت سی کتابوں میں ہے:"اگر کسی نے کسی کنویں کا پانی نکال کر کنواں خشك کردیا تو نکالنے والے پر کوئی تاوان نہیں اس لئے کہ کنویں والا پانی کا مالك نہیں"۔ تو یہ صدقہ اسی معنی پر ہے کہ الله کے تقرب کے لئے اپنا مال مسلمانوں کے نفع کے خاطر صرف کررہا ہے اور اس معنی میں سارے مالی کا رخیر صدقہ قرار دئے جانے میں برابر ہیں۔ اطلاق نمبر ۴ کی دوسری مثال:امام فقیہ النفس قاضیخان فرماتے ہیں:"ایك دیہات میں پختہ کنواں تھا،دیہات اجڑ گیا اور کنواں معطل ہوگیا،اس کے قریب دوسرے دیہات والوں نے اس کی اینٹیں اپنے حوض میں لگانی چاہیں،اگر کنویں کا بنانے والا موجود ہے تو اس سے اجازت لینی ضروری ہے کیونکہ تعطل کے بعد اینٹیں بانی کی ملك ہوگئیں،اور بانی کا پتہ نہ چلے تو وہ اینٹیں فقیر کو دے دی جائیں،اور وہ اپنی طرف سے اس کو حوض میں لگادے،کیونکہ وہ اینٹیں اب لقطہ |
|
عــــــہ: قلت ای لا ضمان لان الاتلاف صادف مباحا غیر مملوك لاحد اما التعزیر فینبغی ان یکون فیما یظہر اذا فعلہ لمحض الاضرار ولا ضرر ولاضرار فی الاسلام ۱۲ منہ۔ |
میں کہتا ہوں یعنی ضمان نہیں ہے کیونکہ یہ ایسی مباح چیز کا اتلاف ہے جس کا کوئی مالك نہیں ہے لیکن تعزیر مناسب ہوگی جبکہ وہ بطور ضرر رسانی ایسا کرے کیونکہ اسلام میں ضرروضرار کی ممانعت ہے ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع