30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ردالمحتار عن البحر الرائق الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجازا عن الہبۃ عند بعضہم وصرح فی الذخیرۃ بان فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر[1] اھ و روی احمد و الطبرانی فی الکبیر عن المقدام بن معد یکرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انك مااطعمت زوجتك فہو لك صدقۃ وما اطعمت ولدك فہو لك صدقہ،وما اطعمت خادمك فہولك صدقۃ۔[2] ولہ فیہ عن ابی امامۃ الباہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماانفق الرجل فی بیتہ واہلہ وولدہ فہو لہ صدقۃ [3]۔ الرابع ربما تطلق حیث لاتملیك و لااباحۃ اصلا وانما ھو تصرف مالی قصد بہ نفع المسلمین کحفر الابار وکروی الانہار وبناء الربط والجسور والمساجد و المدارس وغیر ذلك وعن ہذا تقول انہا صدقات جاریۃ ومن ذٰلك قولہم فی الاوقاف صدقۃ مؤبدۃ و علیہ جاء قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
ردالمحتارمیں بحرالرائق سے منقول ہے:"صدقہ مالداروں پر بھی ہوتا ہے کہ مجازا ہبہ کو صدقہ کہتے ہیں،اور ذخیرہ میں تشریح ہے کہ مالدار کا صدقہ فقیروں کے صدقہ سے کم ثواب والاہوتاہے۔ احمد وطبرانی نے کبیر میں مقدام بن معد یکرب رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کی:"رسول اﷲ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بیوی کو کھلایا تو صدقہ،جو اولاد کو کھلایا تو صدقہ،جو خادم کو کھلایاوہ بھی صدقہ"۔ طبرانی میں ابوامامہ باہلی رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت ہے: "آدمی اپنے گھر میں جو کچھ اہل وعیال اور خادموں پر خرچ کرتا ہے وہ سب صدقہ ہے۔" (۴)اس اطلاق میں نہ تملیك ہے نہ اباحت،یہ ایك قسم کا تصرف مالی ہے جس سے مسلمانوں کو نفع پہنچانا مقصو د ہونا ہے۔جیسے کنواں بنانا،نہریں تیار کرنا،مسافر خانے اورپل بنانا، مساجد اور مدرسوں کی تعمیر کرنا،اورانھیں امور خیر میں صرف کرنے کوصدقہ جاریہ کہتے ہیں:اور اوقات کو اسی معنی میں صدقہ موبدہ کہا جاتاہے۔حدیث شریف میں ہے: "حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے پاس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع