30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان التی یجب فیہا التملیك ہی الصدقۃ بالمعنی الاخص الوارد فیہا لفظ الایتاء او الاداء او مایؤدی مؤادھما،والکفارات لیست من الصدقات بہذا المعنی، فلا شکل ولا اشکال،والحمدﷲ المہین المتعال علی انہ ان قطع النظر عن ہذا التحقیق النفیس الانیس الدقیق،فکان السبیل ان یقال باستثناء الکفارات من حکم وجوب التملیك کما فعل الفاضل القہستانی حیث قال تحت قول النقایۃ تصرف تملیکا یستثنی منہ اباحۃ الکفارۃ [1]اھ لا ان یرتکب مثلك ہذا المحال،وباﷲ العصمۃ عن الزلل و الضلال ہذا ما وعدناك فلنعد الی شرح اطلاقات الصدقۃ۔ ۳الثالث وربما یقطع النظر عن الفقر ایضا،فتشمل التملیك والاباحۃ للفقیر والغنی،قال فی التوسط شرح سنن ابی داؤد الصدقۃ ماتصدقت بہ علی الفقراء ای غالب انواعہا کذلك فانہا علی الغنی جائزۃ عندنا یثاب بہ بلاخلاف [2] اھ وقال فی |
یجب فیہ التملیک"میں صدقہ سے مراد صدقہ خاص بمعنی اول ہے۔اور"الکفارات تجوز فیہ الاباحۃ"کا صدقہ ہونا بمعنی ثانی ہے۔حالانکہ قہستانی ان کی راہ کشادہ کرچکے تھے،وہ فرماتے ہیں"انہ تصرف تملیکا یستثنی منہ الکفارات" صدقات واجبہ میں تملیك ضروری ہے لیکن کفارہ اس سے مستثنٰی ہے۔
(۳)صدقہ کا ایك اطلاق یہ ہے کہ تملیك واباحت اور فقیر وغنی،دونوں کو عام ہو،تو سط شرح ابوداؤد میں ہے: "صدقہ یہ ہے کہ فقیروں کو دیا جائے(مطلب یہ کہ صدقہ میں عموما یہ ہوتاہے)ورنہ صدقہ ہمارے نزدیك مالدار کو بھی دینا جائزہے"۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع