30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باطلاق الانتفاع۔والتصرف والاستھلاك الصادق بہ وبالاباحۃ وبھذا المعنی تشمل الکفارات فتعد من الصدقات الواجبۃ کما قال القہستانی والشامی وغیر ہما فی مصرف الزکوٰۃ"انہ ہو مصرف ایضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذٰلك من الصدقات الواجبۃ [1] اھ وبہ علم ان ہذین المعنین لا یتعدا ھما الواجب من الصدقات والخلط بینہما کانہ ھوالذی حد ذٰلك الرجل الوھابی ان جعل الاباحۃ من التملیک،وذٰلك انہ رأی فی الفتح مایقصر الصدقۃ علی التملیك ورأی فی ردالمحتار مانقلنا اٰنفا وھو یفیدان الکفارۃ ایضا من الصدقات وقد نقل العبارتین فی فتواہ فأظن انہ نظم منہا شکلا و استنتج منہ ان الکفارۃ لابد فیہا من التملیك وکان داریا ان الاباحۃ تسوغ فیہا،فلم یتمالك نفسہ ان حکم بکون الاباحۃ قسما من التملیك لانہ اضطربت لدیہ الاقوال۔وضاق علیہ میدان المجال، ولم یدرالتفصی عن الاشکال الابایداء ہذا المحال، ولم یعرف المسکین فرق المحال،وان تغیر الاوسط یہدم الاشکال |
استہلاك سبھی صورتوں کو شامل ہوتاہے جو تملیك اور اباحت دونوں صورتوں میں ہوسکتاہے صدقہ اس معنی میں کفارہ پر بولاجاتاہے۔جو صدقہ واجبہ سے ہے اس کو لینے کا اہل وہی ہے جو زکوۃ کا اہل ہے۔ چنانچہ قہستانی وشامی وغیرہ نے کہا:"جو فقیر مصرف الزکوٰۃ ہے وہی صدقہ فطر،کفارات اورنذر وغیرہ کا مصرف ہے۔" صدقہ کے یہ دونوں معنی صدقات واجبہ میں ہی متحقق ہونگے،شاید اسی بات نے اس وہابی آدمی کو یہ جرأت دلائی کہ اس نے اباحت کو بھی تملیك میں شمار کیا کہ انھوں نے فتح القدیر میں دیکھا"صدقہ کے لئے تملیك ضروری ہے"اور رد المحتار کی بھی نقل شدہ عبارت میں دیکھا کہ کفارہ بھی صدقات میں سے ہے۔یہ دونوں عبارتیں اس نے اپنے فتوٰی میں نقل کی ہیں اور اس سے قیاس ترتیب دے کے یہ نتیجہ نکالا کہ کفارہ کے لئے بھی تملیك ضروری ہے اور یہ جان ہی رہے تھے کہ کفارہ میں اباحت ہے۔تو اس فیصلہ میں اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے کہ اباحت بھی تملیك کا ہی ایك حصہ ہے کیونکہ اقوال انھیں مضطر ب نظرآئے اور ان میں تطبیق دے نہ پائے تو یہ محال بات بول دی اور قیاس ترتیب دیتے ہوئے انھیں یہ پتہ نہ چلا کہ حد اوسط مکرر نہ ہونے سے نتیجہ غلط ہوتا ہے،فتح القدیر کی عبارت"الصدقۃ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع