30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التصدق لا بدمن التملك اھ حاصلہ معربا۔ اقول:ھذا کلام کما تری لایکاد یرجع الی طائل،فان لزوم التملیك فی التصدق لایستلزم لزومہ فی التقرب ولم یلم کلامکم بایجاب التصدق ہہنا عینا ونفی سائر وجوہ التقرب شیئا فالصغری المطویۃ ہی التی کانت محتاجہ الی البیان وقد طویتموہا و طویتم الکشح عن بیانہا فاختل البرہان،وکان ملحظ ہذا الفاضل ومحط نظرہ ان حکم الجلود اذا کان دائرا بین الاشیاء الثلثۃ،وبالبیع بالدراہم ولو لاجل التقرب انتفی الاخیران،فتعین الاول،وہو لابد فیہ من التملیك ھذا غایۃ مایقال فی تقریر کلامہ،علی حسب مرامہ ھنأہ ربہ بلطفہ واکرامہ فالاٰن۔ اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق، اعلم ان للصدقۃ اطلاقات:۱ الاول: اخصہا تملیك المال من الفقیر مجانا،فخرج الاعارۃ والاباحۃ و ھدیۃ الغنی،والاقراض وھذا ھو المراد فی الزکوٰۃ و صدقۃ الفطر،وبہذا المعنی یقال ان الصدقۃ لابد فیہا من التملیك وحینئذ لاتدخل فیہا الکفارات لجواز الاباحۃ |
کھال کا صدقہ واجبہ ہے۔نہ یہ ثابت کیا کہ اس کو کسی او ر کار ثواب میں نہیں لگایا جاسکتا،حالانکہ یہی دلیل کا صغرٰی ہے۔ بے اس کے ثبوت کے دلیل ہی بیکار ہے۔ان بزرگ کی غلطی کی بناء یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ قر بانی کی کھال صدقہ کرنے بعینہٖ اس سے انتفاع حاصل کرنے یا باقی رہنے، والی چیز سے استبدال میں منحصر ہے۔اورجب بعینہٖ انتفاع اور استبدال بالباقی کی صورت نہ پائی گئی،تو تصدق معین ہوگیا، اور اس میں تملیك ضروری ہے(الله تعالٰی انھیں اپنے لطف سے نوازے)یہ ان کے کلام کی انتہائی توجیہ ہے۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ شرح میں صدقہ کا اطلاق متعدد چیزوں پر ہوتاہے۔ (۱)تملیك المال من الفقیر"اس صورت میں عاریۃ۔ اباحۃ،ہدیہ غنی،قرض وغیرہ سب صدقہ سے نکل گئے،اور صدقہ فطر اور زکوٰۃ میں لفظ صدقہ سے یہی مراد ہوتی ہے اور اسی صدقہ کے لئے کہا جاتاہے کہ ا س میں تملیك ضروری ہے۔تو صدقہ کفارہ اگر چہ صدقہ واجب ہے لیکن اس معنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع