30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماتنتہی دون نقلہ الاعمار،وانا بحمداﷲ عالم بمناط غلطک،ومثارلغٖطك وسأنبہك علیہ عن قریب،ان شاء المولی القرب المجیب،واما مااوہمت من اجزاء الاباحۃ فی الصدقات مطلقًا فواضح البطلان عند کل من یعلم ان الزکاۃ وصدقۃ الفطر لاتغنی فیہما الاباحۃ علی المذہب الصحیح المفتی بہ،وقد قدمنا نصوص النقایۃ و التنویر والدر، وضابط الدرو شرح ملتقی الابحر،وسیأتی زیادۃ علی ذٰلك ان اراد المالک۔ وبالجملۃ کلام الرجل ککلام مدہوش من قرنہ الی قدمہ مخدوش ونحن اذا قد اوضحنا المرام وازحنا الاوہام بتوفیق ربنا الملك العلام،فلا علینا ان نقصر الکلام ونطوی بساط والرد الابرام والحمدﷲ ولی الانعام۔ تذلیل جلیل:قال العبد الذلیل بعد ہذا وقفت علی تحریر اٰخر لبعض جلۃ العصر من افاضل اہل السنۃ جنح فیہ نحو ماجنح اولئك القوم،وحکم ان لا بدہہنا من التملیك متمسکا بما تعریبہ حکم جلود الاضاحی ان یتصدق بہا اوینتفع بہا بنفسہ او یستبدلہا بما ینتفع بہ مع بقاء کالغربال و السجادۃ وغیرہما ففی صورۃ |
مولانا زین ابن نجیم شرح کنز میں فرماتے ہیں:"مباح کو مباح لہ مباح کرنے والے کی ملك پر ہی ختم کرتاہے یا وہ چیز خود اپنے ہی ملك پرہوتی ہے کوئی اس کا مالك نہیں" آؤں تو ایسی نصوص کا انبار لگ جائے،تو تملیك اور اباحت کے فرق کا اعلان کررہی ہیں۔ اسی طرح اس کلام کا یہ ٹکڑا کہ"صدقات میں مطلقًا اباحت کافی ہے"یہ بھی غلط ہے۔اتنی بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں اباحت کافی نہیں ہم نے اس بات کی جزئیات تنویر اور در سے پہلے نقل کئے،اور در کا ضابطہ بھی نقل کیا،آئندہ مزید تفصیل کریں گے تو اس قائل کا کلام ازتا پامخدوش ہی مخدوش ہے اور ہمیں مزید رد کی ضرورت نہیں۔
ایك سنی عالم کا فتوٰی:البتہ علمائے اہلسنت میں سے بھی ایك بزرگ نے اس قسم کی بات کہی جو گنگوہی صاحب سے مذکور ہوئی،ان کا کلام یہ ہے:"قربانی کی کھال کاحکم یہ ہے کہ اس کا صدقہ کیا جائے یا اس کو خود استعمال کیا جائے،یا اس کو باقی رہنے والی چیز سے بدلا جائے،جیسے چھلنی،مصلی وغیرہ،تو تصدق کی صورت میں تملیك ضروری ہے" انھوں نے اپنے کلام سے نہ تو یہ ثابت کیا کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع