30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یعنی الزکوٰۃ قال العلامۃ الشمس محمد فی شرحہا فیہ اشارۃ الی انہ لایجوز صرف الاباحۃ [1] الخ اوما عقلت ماافاد العلامۃ البحر فی لقطۃ البحر،اذقال انما فسرنا الانتفاع بالتملك لانہ لیس المراد الانتفاع بدونہ کالاباحۃ [2]۔اوما وقفت علی قول السید الشامی فی لقطۃ ردالمحتار ان التصرف علی وجہ التملك احتراز عن التصرف بطریق الاباحۃ علی ملك صاحبہا [3] اھ اوما سمعت العلماء یصرحون فی غیر ما موضع ان المباح لہ انما یتصرف علی ملك المبیح لا حظ لہ من الملك اصلا،حتی لم یثبتوا لہ ملکا بعد زوال ملك المالک،ایضا قال المولی زین بن نجیم فی شرح الکنز فان قیل المباح یستھبلکہ المباح لہ علی ملك المبیع او علی ملك نفسہ،قلت اذا صار ماکولا زال ملك المبیع عنہ،ولم یدخل فی ملك احد[4] اھ واثرہ عنہ العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر،ہذا وکم اسرد لك یاہذا من نقول الاسفار وہی فی الوفور والاستکثار |
"امام صدر الشریعۃ نے فرمایا:"(الزکوٰۃ)تصرف تملیکا" زکوٰۃ تملیك کے طور پر خرچ کی جائے گی،علامہ شمس محمد نے اس کی شرح میں کہا:اس میں اشارہ ہے کہ زکوٰۃ کو کسی کے لئے مباح کیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی
اسی طرح علماء کی تصریح ہے:"جو چیز مباح کی وہ مباح کرنے والے کی ملك پر باقی رہتی ہے جس کے لئے مباح کی گئی،اس کو اس کی ملك سے کوئی تعلق نہیں رہتا"_____"وہ تو یہاں تك فرماتے ہیں:"مالك کی ملك زائل ہوجائے تب بھی ضروری نہیں کہ مباح لہ کی ملك ثابت ہو۔"
مطلب یہ ہے کہ جب مباح لہ نے اس چیز کو کھالیا تو وہ چیز مباح کرنے والے کی ملك سے نکل گئی،اور کسی کی ملك میں داخل نہیں ہوئی،حتی کہ کھانے والے کی ملك بھی نہ ہوئی یہی مطلب ہے ملك نفسہٖ کا،ان کا یہ قول ملا علی قاری نے اپنی کتاب حاشیہ درمیں پیش کیا،الغرض اگر میں نقل کرنے پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع