30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول:یالیتك اذلم تہتد الی الصواب قنعت۔بما من قبل صنعت،ونفسك عن الاسترسال منعت، ولکنك اجبت ان تزید فی الطنبور نغمۃ،وفی الشطر نج بغلۃ فابتدعت القول بان الاباحۃ من التملیك وانہا تجزی فی الصدقۃ مطلقًا،فجعلت القسیم قسما،والضد ندا مع ان کلمات العلماء،فی مسائل الاباحۃ غیر قلیۃ ولاخفیۃ بل دوارۃ فی کثیر من ابواب الفقہ،منہا الطہارات،ومنہا الزکوٰۃ،ومنہا الطلاق،ومنہا اللقطۃ ومنہا الہبۃ،ومنہا الکراہیۃ وغیر ذٰلك وھذا شرح الوقایہ للامام الجلیل صدر الشریعۃ اول کتاب نتدراسہ فی الفقہ۔افاد فیہ رحمہ اﷲ تعالٰی فی اول کتاب الطہارات من باب التیمم،ان القدرۃ ثبت بطریق الاباحۃ،وبطریق التملیك فان قال صاحب الماء لجماعۃ من المتیممین لیتوضأ بہذا لماء ایکم شاء،والماء یکفی لکل واحد منفرد اینتقض تیمم کل واحد لثبوت القدرۃ لکل واحد علی الانفراد، اما اذا قال ھذا الماء لکم وقبضوا لا ینتقض تیممہم لانہ یبقٰی |
یہ دونوں عبارتیں ہی کیا ہیں،ہر کتاب میں آپ کے مدعا پر سیکڑوں دلیلیں موجود ہیں، اس شخص نے کہا:"صدقہ میں مطلقًا تملیك واجب ہے عام ازیں کہ بطور اباحت ہو یا بطور تملیک۔" آدمی کو صحیح بات نہ معلوم ہو تو جتنا ہو چکا اسی پر صبر کرنا چاہئے اور دراز لسانی سے پرہیز کرنا چاہئے،لیکن آپ نے تو ایك نئے سر کا اضافہ کرنا چاہا،اور شطرنج کے کھیل میں گدھے کو بھی داخل کردیا کیونکہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ اباحت بھی تملیك کا ایك حصہ ہے،اور صدقہ واجبہ تملیکیہ میں بھی اباحت سے کام چل جائے گا،افسوس کہ اس کلام میں قسیم کو قسم اور ضد کو شریك بنادیا گیا حالانکہ ان دونوں کی تفریق کے بیان میں کتابوں کے ابواب بھرے پڑے ہیں،ابواب طلاق ولقطہ وہبہ کراہیہ وغیرہ میں کثرت سے یہ مسائل ہیں۔ ہم لوگ فقہ میں جو اول کتاب امام صدرالشریعۃ کی شرح وقایہ پڑھاتے ہیں اس میں کتاب الطہارۃ کی ابتداء میں ہی لکھتے ہیں:"پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل ہوجاتی ہے اور تملیك سے بھی توپانی والے نے ایك پوری جماعت سے اگر یہ کہا تم میں سے جو چاہے اس پانی سے وضو کرے،اور پانی کسی ایك کے وضو بھرتھا۔پوری جماعت کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ علی سبیل الانفراد سب کی قدرت ثابت ہو گئی،اور اگر یوں کہا کہ اس پانی پر تم سب قبضہ کرلو تو تیمم نہ ٹوٹے گا،کیونکہ اتنا پانی جب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع