30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال العینی فی شرح الہدیۃ انہ تصرف علی قصد التمول وقد خرج عن جہۃ التمول فاذا تمول بالبیع وجب التصدق لان ہذا الثمن حصل بفعل مکروہ، فیکون خبیثا فیجب التصدق اھ وفی الکافی فاذا تمولہا بالبیع انتقلت القربۃ الی بدلہ فوجب التصدق اھ معرباملخصا۔ اقول:دلنا کلامك ھذا علی تعیین الشق الاخیر من الشقوق الثلثۃ المارۃ فی قولی،یا لیث شعری فعر فنا بتردیدك ان لیس کل بیع بمستھلك تمولا عندک، وانك مائزبین التمول وغیرہ،وان بدلت التقرب بالتصدق جہلامنک،او تجاہلا مع علمك ان الکلام فی سائر القرب،دون التصدق فاذن لااجد لاحتجاجك بکلام الکافی مثل،الا کمن ادعی ان من صلی اثم سواء کانت صلاتہ ﷲ تعالٰی اولغیرہ واحتج علیہ بقولہ عزوجل" قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾"[1] فان کان الدلیل یتم بان یکون اخص من المدعا مع عدم المساس بالجزء المقصود منہ المتنازع فیہ اصلا، فلااری احد امن |
مول او ر تقرب کے فرق سے آگاہ ہے بھی تو بیع تمول اور بیع تقرب کو دو علیحدہ قسمیں قرار دے کر حرف تردید سے بیان کیا کہ تمول ہو یا صدقہ کی نیت دام کا صدقہ واجب ہوگیا،ہاں لاعلمی یا تجاہل عارفانہ میں لفظ تقرب کو تصدق سے بدل دیا کیونکہ کلام تو مطلقًا کار ثواب کے لئے بیع کرنے سے متعلق ہے۔الغرض اس کلام سے اب سمجھ میں آیا کہ بات وہی آخری ہے کہ اس شخص کے نزدیك ضد مخالف سے استدلال جائز ہے۔اس استدلال کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے عبادت خدا کی ہو یا غیر کی سب ناجائز ہے۔دلیل اس کی قرآن عظیم میں ہے۔لااعبد ماتعبدون تو ماتعبدون دیکھا ہی نہیں لا اعبد سے استدلال کردیا،اسی طرح صاحب کافی کی عبارت تو بیع تمول کو ممانعت میں ہے اور آپ نے مطلقًا بیع حرام کر دی، یہ تو عبارت کافی سے استدلال کاحال ہے۔اور عینی سے استدلال کی حالت تو اور ردی ہے۔اس لئے کہ وہ نص کرتے ہیں کہ اس کا تصدق اس لئے واجب ہے کہ مال خبیث اور یہ صورت بیع تمول کے سوا اور کسی صورت میں ہوہی نہیں سکتی،تو آپ کا اس عبارت سے استدلال اندھیری رات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع