30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وہما مثبتتان فی المجلد الرابع من مجموعۃ فتاوٰی المبارکۃ ان شاء اﷲ تعالٰی الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوٰی الرضویۃ جعلہا اﷲ نافعۃ للمسلمین و مقبولۃ لدی العالمین وحجۃ لعبدہ یوم الدین اٰمین الہ الحق اٰمین۔ فعند ذٰلك نازعنی شرذمۃ من الہندیین اکثرہم من الوھابیۃ المبطلین زاعمین ان البیع بالدراہم مطلقًا ولو للقربات یوجب التصدق حتی لایجوز لہ الصرف الی مانوی من القرب بل لایخرج عن العہدۃ الا بالاداء الی الفقیر علی وجہ التملیك واحتج الاصاغر منہم علی ذٰلك بعبارتی الہدایۃ والدر المذکورتین وقد بینا ما ہو المراد بہما واثبتنا عرش التحقیق علی انہ لامساس لشیئ منہما بمز عوم القوم،فاغنانا ذٰلك عن الاسترسال مرۃ اخری فی رد کلامہم۔فانہ لشدۃ وھن نفسہ غنی عن ایھان غیرہ،فلئن سألتہم ہل الکلام ہہنا اعنی فی قول الہدایۃ والدر فی بیع یکرہ لافی غیر۔لیقولن نعم، ولئن سألتہم ھل البیع بالدراھم یکرہ مطلقًا لیقولن لا،قل فانی تذہبون،ولئن قالوا فی الاول لا۔ لقضت علیہم حجتہم نفسہا بالخطاء والجہالۃ ولئن |
دوسرے مصرف میں خواہ مصرف خیر ہی کیوں نہ ہو صرف کرنا جائز نہیں اصاغر نے توہدایہ اور درمختار کی انھیں دونوں عبارتوں سے سند پکڑی ہے،جس کا مفصل بیان اوپر گزرا تو ہم کو دوبارہ ان کی تردید کرنی ضروری نہ تھی،ان کی بات حد درجہ کمزور ہے۔کیونکہ ان سے خود پوچھ دیکھو کہ ہدایہ اور در مختار کی عبارت بیع مکروہ کے بیان میں ہے۔یا کسی دوسرے کے بیان کے لئے،توکہیں گے بیع مکروہ کے لئے پھر ان سے پوچھ کیا کھال کی بیع مطلقًا مکروہ ہے تو کہیں گے نہیں، تو اب فیصلہ کے لئے کیا باقی رہ گیا،اور اگر اول میں پلٹ کر جواب دیں کہ صرف بیع مکروہ کی نہیں،تو ان کا نفس انھیں خود جھٹلائے گا،اور ثانی میں اگرکہیں ہاں،تو ان کی بات خود انھیں کو جھٹلارہی ہے کیونکہ وہ بھی صدقہ کے لئے بیع جائز قرار دیتے ہیں،اور اگر وہ اس بیع کے جواز کا انکار کرینگے تو ہم ان کو نصوص علماء کے لشکروں سے آسودہ کردیں گے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع