30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وبطل تعلیہ بانہ"تصرف علی قصد التمول"فلیس کل بیع بالدراھم مما یصدق علیہ ذٰلك کما اسلفنا تحقیقہ۔وقولہ"ولو باع الجلد الخ"انما ہو متفرع علی تلك المسئلۃ فلا یراد بہ الاماما ارید بہا،کانہ لما بین عدم جوازہ نشاء السوال فقیل اذا لم یجزہذا۔ فان فعلہ فاعل فما ذا علیہ۔فاجاب بانہ یتصدق بثمنہ ثم نشاء السوال بان قولکم ہذا یفید صحۃ البیع فکیف بحدیث"من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ[1]"فاجاب"بانہ الحدیث۔انما یفید کراہۃ البیع اما البیع جائز لقیام الملك والقدرۃ علی التسلیم[2] اھ"وھذا دلیل اٰخر علی ان لیس کلام فی مطلق البیع بالدراہم،فان البیع بہا لاجل التصدق لایکرہ اصلا،وقد بین ہذا،فابین من ھنا مولانا العلامۃ العلائی صاحب الدر حیث قال بعد قولہ المولی الغزی رحمہما اﷲ تعالٰی"تصدق بثمنہ اھ مفادہ صحۃ البیع |
والی بیع ہے مطلقًا بیع نہیں،ورنہ حضرت کی ان عبارتوں کے کوئی معنی نہ ہوں گے"مالاینتفع بہ"(جس سے نفع نہ اٹھایاجاسکے)اعتبارا بالبیع بالدراھم(بیع بالدراہم پر قیاس کرتے ہوئے)وانہ تصرف علی قصد التمول(یہ تمول کی نیت سے تصرف ہوا)اور اسی کے بعد صاحب ہدایہ کی یہ متنازع عبارت"اگر جلد اور گوشت الخ"تو اس کا مطلب مطلقًا بیع کیسے ہوسکتاہے،یہ تو اسی حکم پر متفرع ہے،گویا کسی نے پوچھا کہ ذاتی اغراض کے لئے جو بیع بالدراہم ہوئی وہ تو ناجائز ہوئی،اب جو پیسہ اس سے حاصل ہوا کیا کیا جائے،تو فرمایا وہ مال خبیث ہے۔اس کا صدقہ واجب ہے۔ا س پر گویا پھر کسی نے پوچھا آپ کے حکم"یہ مال خبیث ہے"سے یہ پتہ چلتاہے کہ بیع ہوئی مگر فاسد،اور حدیث مبارک"لااضحیۃ لہ"سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ یہ بیع باطل ہے۔تو اس کا جواب اس طرح دیا کہ"الحدیث انما یفید الکراھۃ"یعنی حدیث سے بھی بطلان ثابت نہیں،مراد کراہت ہی ہے، کیونکہ بیع کے تو تمام ارکان پائے گئے کہ جانور بیچنے والے کی ملك ہے۔اور مشتری کو اس پر قبضہ بھی دلاسکتاہے۔اس لئے بیع تو ہوگئی،مگر قصد تمول اور عدم بقائے بدل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع