30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(تنبیہ نفیس)اقول: وبہذا التحقیق استبان والحمد ﷲ معنی قول الہدایۃ"لوباع الجلد واللحم بالدراھم اوبما لاینتفع بہ الابعد استہلاکہ تصدق بثمنہ [1] اھ"فانما معناہ اذا باع بہا لاجل الانتفاع لا البیع بہا مطلقًا فانہ رحمہ اﷲ تعالٰی ونفعنا ببرکاتہ فی الاولٰی والاخرٰی قال اولا یعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت [2] ثم قال"ولا باس بان یشتری بہ ماینتفع بہ فی البیت بعینہ مع بقائہ [3]"ثم قال"ولایشتری بہ مالا ینتفع بہ الا بعد استھلاکہ[4]، وقال فی تعلیلہ" اعتبارا بالبیع بالدراہم [5]"قال"والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول [6]"ثم قال"ولو باع الجلد اواللحم [7]"الخ فکلامہ کلہ،بدؤہ وثناؤہ وفتحہ وانتہاؤہ فی البیع لاجل الانتفاع،لا مطلق البیع،فکیف ولو ارید المطلق لما ساغ قولہ"ولایشتری بہ مالا ینتفع بہ" الخ فان شراء ذٰلك لاجل التصدق جائز قطعا و لما صح قولہ"اعتبارا بالبیع بالدراھم"لمثل مابینا |
عبارت ہدایہ کی تشریح:ہماری اس تحقیق سے ہدایہ کے مندرجہ ذیل قول کے معنی بالکل واضح ہوگئے اور مانعین کا استدلال باطل ہوگیا،"اگر جلد یا گوشت کو دراہم یا ایسی چیزوں کے ساتھ بیچاجنھیں ختم کئے بغیر ان سے انتفاع نہ ہوسکے تو اس کی قیمت صدقہ کرے" (۱)اس عبارت میں بیچنے سے مراد اپنی ذات کے لئے بیچنا ہے۔ مطلقًانہیں کیونکہ پہلے انھوں نے یہ فرمایا کہ کھال سے گھریلو کام کے لئے کوئی سامان بنایا جاسکتاہے پھر کہا ایسی چیز جسے باقی رکھ کر اس سے فائدہ اٹھایا جائے __________ اس سے بدل بھی سکتے ہیں تو ان دو مسئلوں میں انتفاع ذاتی ہی کا بیان ہے اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ایسی چیز سے نہ بدلیں جو استعمال میں خرچ ہو جائے،تو یہ ممانعت بھی ذاتی استعمال والی ہی بیع کے لیے ہوئی،اب اسی بیع کی ممانعت کی علت بیان فرماتے ہیں کہ یہ بیع بالدراہم کی طرح ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس سے وہی بیع بالدراہم مرا د ہوگی،جو ممنوع ہے صدقہ کے لئے تو دراہم کے عوض بیچنا جائز ہی ہے۔اور آگے اسی کے لئے فرماتے ہیں کہ اس میں معنی تمول ہے تو یہ کلام ابتداء سے انتہاء تك پکار پکار کر اعلان کررہا ہے کہ اس بیع سے مراد ذاتی انتفاع |
[1] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
[2] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
[3] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
[4] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
[5] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
[6] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
[7] الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع