30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لذلك وہو الغالب فیہ وان یکون بالدارہم لانہ البیع المطلق،والبیع من کل وجہ اما المقایضۃ فتستوی فیہ جہتا البیع والشراء اما سائر المستھلکات ففی حکم الدراہم،ولذا جعلہافی الہدایۃ ھی الاصل۔ وقال فی سائر ہن اعتبار بالبیع بالدارہم[1] ہذا کلہ ما خطر بالبال مستعجلا فانعم الفکر منصفا متاملا، فان وجدت شیئا یعرف وینکر فلم آلُ جہدا فی اتباع الغرر من ائمۃ النظر واﷲ الہادی الی عوال الفکر۔ |
کرتاہے کیونکہ بیع کی یہی صورت اصلی ہے۔اور اشیاء سے تبادلہ میں تو بدلین پر قیمت اور بیع دونوں ہونے کااحتمال رہتا ہے،اس لئے صرف لفظ باع بھی اس مقصد پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہے کہ حدیث میں لفظ"من باع"سے خاص وہی بیع مراد ہے جو دراہم کے بدلے اپنے ذات کے تمول و انتفاع کے لئے ہو۔ شبہہ اوراس کا جواب:اگر کوئی یہ کہے کہ دیگر مستہلکات سے بھی تو بقول آپ کے بیچنا منع ہے۔تو آپ کے اس قول کا کیا وزن رہا کہ لفظ بیع پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ بیع ممنوع بالدراہم ہے۔اس کاجواب یہ ہے کہ دیگر مستہلکات کے ساتھ بیع کی ممانعت دراہم کے ہی تابع ہوکر ہے۔اصالۃً نہیں،اسی لئے تو ہدایہ میں دراہم کو ہی اصل قرار دیا ہے۔ اور بقیہ کو اسی پر قیاس کرتے ہوئے فرمایا:اعتبار بالبیع بالدراھم(دراہم کی بیع پر قیاس کرتے ہوے)۔ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) ولا یباع [2]اھ فاشار ان المراد بالبیع ھو الذی یقصد بہ الانتفاع ۱۲ منہ قدس سرہ۔ |
کیا جاتاہے اور گوشت میں غالب یہی ہے کہ اس سے نفع حاصل کیا جاتاہے اور اسے فروخت نہیں کیا جاتا اھ تو اس سے اشارہ ہوا کہ بیع سے مراد صرف وہ جس سے انتفاع مقصو دہو ۱۲ منہ قدس سرہ،(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع