30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فانکار جواز ھذا ان لیس تحکما فماذا، وانت اذا تأملت ماالقیت علیك واخذت الفطانۃ بیدیك وجعلت الانصاف بین عینیك لعلمت ان ہذا ہو الغنی المفہوم من الحدیث فی اول النظر کما بعد الطلب الحثیث فان المتبادر من سیاق اللفظ ان یکون بیعہ عــــــہ لاتنفاع لانہ عقد موضوع |
بیچا تواکل وادخار تو ضرور منتفی ہوا۔لیکن طیب ثواب بھی باقی ہے۔اور یہ ان وجوہ ثلثہ میں سب سے افضل ہے۔تویہ جائز ہوگا،اور اس کا انکار زیادتی اور زبردستی ہے، ایك آسان بات:یہ لمبی اور دقیق بحث ترك بھی کردی جائے تو یہ ایك آسان اور سامنے کی بات ہے کہ لفظ بیع انتفاع کے لئے بیچنے پر دلالت کرتاہے۔کیونکہ عقد بیع کی وضع ہی اسی غرض کے لئے ہوتی ہے۔اوریہی لفظ بیع بالدراہم کی طرف بھی اشارہ |
|
عــــــہ: ثم بعد زمان لما من المولی سبحنہ وتعالٰی علی بشراء غایۃ البیان للعلامۃ الاتقانی رایت نقل عن الامام شیخ الاسلام بکل مایشیرالی ھذا الذی نحوت الیہ حیث قال قال شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمہ اﷲ تعالٰی فی مبسوطہ اما اللحم فالجواب فیہ کالجواب فی الجلد ان باعہ بالدراھم تصدق بثمنہ وان باعہ بشیئ اٰخر ینتفع بہ جاز کما فی الجلد وانما ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالٰی البیع فی حق الجلد دون اللحم لانہ بنی الامر علی ماھو الغالب وفی الغالب کما ینتفع بعین الجلد یباع بشیئ اٰخر وینتفع بہ وفی اللحم فی الغالب ینتفع بہ |
پھر کچھ زمانہ بعد جب الله تعالٰی نے مجھ پر احسان فرمایا علامہ اتقانی کی غایۃ البیان خریدلینے کا،اسے میں نے دیکھا کہ انھوں نے امام شیخ الاسلام سے وہ سب کچھ نقل فرمایا جس کی طرف میں نے اشارہ کیاہے جہاں انھوں نے فرمایا کہ شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمہ الله تعالٰی نے اپنی مبسوط میں فرمایا کہ گوشت کی بابت حکم وہی ہے جو کھال میں ہے کہ اگر دراہم سے فروخت کیا تو صدقہ کرے اور اگر کسی اور نفع آور چیز سے فروخت کیا تو جائز ہے جیسا کہ کھال کاحکم ہے امام محمد رحمہ الله تعالٰی نے صر ف کھال کے متعلق بیع کاحکم اس لئے ذکر کیا کہ انھوں نے غالب رواج پر بنا کر تے ہوئے فرمایا کیونکہ غالب طو ر پر جلد کو نفع یا نفع مند کے بدلے فروخت (باقی برصفحہ آیندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع