30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذٰلك رأینا ان المراد ھو البیع بحیث یخرج عن جمیع مارخص لہ الشرع فیہ،وما ہو الاالبیع بمستھلك لا لان یصرف الی قربۃ فان الاکل وہو الانتفاع بہ عاجلا قد ذھب بنفس التبدل والادخار عــــــہ لکونہ لانفع بہ ببقائہ،والائتجار لعدم التقرب فخرج عن الوجوہ الثلثۃ الشرعیۃ،فکان ہو الملحوظ بالنہی المورث للخبث الموجب للتصدق، اما اذا باع ماینتفع بہ باقیا فالا کل وان فقد و الائتجار و ان لم یکن فالا دخار باق،لان البدل ینوب المبدل وھو مبقی فیکون مدخرا،وکذا اذا باع بمستھلك لقربۃ فالاکل و الادخار وان ذہب فالائتجار حاصل،وھو افضل الوجوہ فلا معنی للمنع وبہ ظہران مانحن فیہ اولی بالجواز من البیع بباق وہو مصرح بجوازہ فی عامۃ کتب المذھب |
کی غرض سے ہو،یا وہ بیع جو باقی رہنے والی چیزسے ہو،یا اس کو کھالیا جائے،تو یہ افعال لااضحیہ لہ(اس کی قربانی نہیں) کی شرط نہیں بن سکتے کیونکہ ان کی تو خود حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اجازت دی ہے تو لامحالہ شرط میں وہی بیع مراد ہوگی جس کی کھال یا گوشت کو تمول کے لئے بیچا گیا ہو کیونکہ ایسی بیع سے قربانی کے مقاصد ثلثہ فوت ہوگئے،بیع کی صورت میں کھانا منتفی ہوگیا،یہ ظاہر ہے۔ادخار(جمع کرنا)اس لئے منتفی ہوگیا کہ ایسی چیز کے عوض بیچا جو باقی رہنے والی نہیں ہے کہ کہا جائے کہ بدل اصل کا قائم مقام ہے اور طلب ثواب اس لئے منتفی ہوگیا کہ یہ بیع تمول اورکسب زر کی غرض سے ہوئی تو ایسی بیع کی صورت میں قربانی کے تینوں مقاصد منتفی ہو گئے،ا ور یہ کہنا بالکل چسپاں ہوگیا کہ لااضحیۃ لہ(اس کی قربانی نہیں)اور اس بیع سے جو قیمت حاصل ہوئی خبیث ہوئی، تو اس کا صدقہ واجب ہوگیا۔ برخلاف اس کے اگر باقی رہنے والی چیز سے بدلاتو اکل وثواب تو ضرور منتفی ہوا،مگر ادخار باقی رہا کہ بدل کا باقی رہنا اصل کا باقی رہنا ہے۔اور ہلاك ہونیوالی چیز سے برائے ثواب |
|
عــــــہ: الادخار الا نتجار کلاھما بالنصب عطفا عن الاکل ۱۲ منہ قدس سرہ۔ |
ادخار اور ائتجار دونوں نصب کے ساتھ ہیں لفظ اکل پر عطف کی بنا پر ۱۲ منہ قدس سرہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع