30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویعطی القیم،فان القربۃ فیہا بالاراقۃ دون التصدق، وھی غیر معقولۃ،فلا تستبدل ولا تتقوم، کما افادہ فی الہدایۃ والبحر وغیرھما،ثم انا نجد الجزاء ای فلا اضحیۃ لہ [1]اعظم شاہد علی عدم الاطلاق،فان من باع للتصدق فقد اتی بما کان مندوبا الیہ فی الاضاحی، فکیف یجازی بانتفاع قربۃ مع انہ لم یزد علی القربۃ الا قربۃ مطلوب فی خصوص المحل، و قضیۃ الجزاء،ترتبہ علی فعل ینافی التضحیۃ و ینفی الاضحیۃ علی مافیہ من التاویل لکونہ فی معنی الرجوع عن القربۃ،فلا یمکن ان یکون من باب القربۃ،بل ولا من باب الاکل والادخار فان الشرع قد رخص فیہا ایضا مثل الائتجار ولو کان فیہما ماینا فی الاضاحی ویصح ان یترتب علیہ نفی الاضحیۃ۔لما اذن فیہما فعند
|
قیمت بھی،تو قربانی میں بھی یہی ہونا چاہئے کہ جس طرح گوشت اور کھال کا صدقہ جائز ہے اس کی قیمت کا صدقہ بھی جائز ہو۔ ایك ذیلی شبہہ اور اس کا جواب:اصل قربانی میں تو ایسا نہیں ہوتا کیونکہ کوئی شخص قربانی کے بجائے اس کی قیمت صدقہ کرنا چاہے تو شرعا جائز نہیں،قربانی ہی کرنی ہوگی،اس کا جواب یہ ہے کہ قربانی میں اصل مقصد خون بہانا ہوتاہے جو قیمت صدقہ کرنے سے حاصل ہوتا۔ا ور چونکہ قربانی کا حکم خلاف قیاس ہے۔اس لئے اس میں اپنی عقل سے بدلہ مقرر کرنا صحیح نہیں،جیسا کہ بحر وہدایہ وغیرہ میں ا س کی تصریح ہے اور گوشت اور کھال کا مقصد صدقہ ہے۔اس لئے قیمت سے بھی ادا ہوجاتاہے۔ داخلی شہادت یہ ہے کہ یہ حدیث مبارك بطور شرط وجزاء وار دہوئی،شرط یہ جملہ ہے:"جس نے قربانی کی کھال بیچی"اور جزا یہ ہے:"اس کی قربانی نہیں ہوئی" پس اس جز ا کا تقاضا یہ ہے کہ شرط ایسی چیز ہو جس پر قربانی کی نفی مرتب ہوسکے،اور قربانی قربانی نہ رہ جائے،نہ کہ وہ چیز جس سے قربانی کا مقصد بدرجہ اتم حاصل ہو،یعنی شرط ایسی بیع ہوگی جو ثواب کے لئے نہ ہو،اور وہ بیع جو حصول ثواب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع