30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بتوسط لازم،وذٰلك کان ینفی المقید لازم اطلاق المطلق فینتفی بانتفائہ فیتقید لامحالۃ کما فی اعتق عنی رقبۃ ولا تملکنی رقبۃ کافرۃ فان النہی عن تملیك کافرۃ ینفی جواز اعتاقہا عنہ،اذ لا عتاق عنہ بدون تملیکھا عنہ۔ وقد اجابوا القائلین بالحمل فی الاسباب واختلاف الحوادث بعدم التعارض کما فی التلویح وغیرہ، و عللوا وجوب الحمل عند الاتحاد بامتناع الجمع ممثلین لہ بقولہ تعالٰی " فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ"[1] مع قرائۃ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ بزیادۃ متتابعات، قالوا فان المطلق یوجب اجزاء غیر المتتابع والمقید یوجب عدم اجزائہ کما فی التوضیح [2]وغیرہ فقد افاد وان الحمل خاص بالایجاب دون الجواز و الاستحباب،ولذا |
(ب)تلویح میں اسباب متعدد اور اختلاف حوادث کی صورت میں بھی مطلق مقید پر حمل کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا:"اگر ایك ہی حادثہ میں ایك حکم میں مطلق کی نفی ہو اوردوسرے میں مقید کی نفی،تو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا،کہ ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں،اصل مراد دونوں کی نفی ہے۔ ہاں دو ایسے مختلف احکام میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا،جہاں ایك حکم دوسرے کی تقیید کو مستلزم ہو،جیسے کسی نے کسی سے کہا ہماری طر ف سے ایك غلام آزاد کرو۔اور مجھے کسی مشرك غلام کا مالك نہ بنانا،ایسی صورت میں آمر کی طرف سے صرف مسلمان خرید کرہی آزاد کیا جائے گا اگر چہ حکم مطلقًا آزاد کرنے کا ہے۔لیکن مشرك غلام کی ملکیت کی نفی نے تملیك کو صرف مسلم غلام تك خاص رکھا اور اسے مالك بنائے بغیر اس کی طرف سے آزاد نہیں ہوسکتا تو جس کا مالك بناسکتاہے یعنی مسلمان کا،اسی کو آزاد بھی کرے گا،آزادی کا حکم لاکھ عام ہو۔ " (ج)توضیح وغیرہ میں تعارض کے وقت مطلق کے مقید پر محمول ہونے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا گیا:"الله تعالٰی نے کفارہ میں مطلقًا تین روزے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع