30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تقریر آخر اشمل و اظھر لبیان الفرق تطھر بہ المسائل جمیعا ان شاء الله تعالیٰ۔فاقول:وباﷲ التوفیق الجہات ثلث الاکل والادخار والائتجار وہو طلب الاجر بای وجہ کان فقد اخرج ابوداؤد فی سننہ بسند صحیح رواتہ کلہم من رجال الصحیحین ما خلا مسددافثقۃ حافظ من شیوخ البخاری عن نبیشہ الخیر الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انا کنا نہینا کم عن لحومہا ان تاکلوہا فوق ثلث لکی تسعکم جاء اﷲ بالسعۃ فکلوا وادخروا وائتجروا الا وان ہذا الایام ایام اکل و شرب وذکر اﷲ عزوجل [1]اھ والائتجار باطلاقہ یشتمل التصدق وسائر وجوہ التقرب کما لایخفی فان فسرہ مفسر بالتصدق فلیکن التصدق فی کلامہ بالمعنی الاعم علی ماسیأتیك تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالٰی۔ |
کہ حصول زر اور تمول کی غرض سے بیع ناجائز ہے۔اور مقاصد خیر کی غرض سے جائز،جیسا کہ امام زیلعی نے اس کے جواز کی علت میں فرمایا:"لانہ قربۃ"(اس لئے کہ یہ کار ثواب ہے)اور منطق کی زبان میں یہ قول قیاس کا صغرٰی ہوا اور نتیجہ دینے کے لئے کبرٰی کاکلیہ ہونا ضروری ہے۔جو اس طرح ہوگا،ہر قربت جائز ہے تو بات نصف النہار کی طرح واضح ہوگئی کہ ہر قربت اور کار ثواب کے لئے بیع جائز ہے۔ وﷲ الحمد ایك دوسری تقریر:شرعا قربانی کے مصرف کے تین جہتیں ہیں:اکل(کھانا)ادخار(جمع کرنا)ایتجار(کار ثواب)میں صرف کرنا چاہے کون سابھی کار ثواب ہو،جیسا کہ ابوداؤد نے ایك ایسی سند سے جس کے تمام راوی بخاری اور مسلم کے رواۃ میں ہیں،ایك صاحب حضرت مسدد ایسے نہیں تو وہ ثقہ ہیں،حافظ ہیں،اورامام بخاری کے اساتذہ میں ہیں،الغرض یہ حدیث صحیح حضرت نبیشہ ہذلی رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی ہے: "حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہم تم کو قربانی کا گوشت تین دن سے زائد روکنے سے منع کرتے تھے،اس کا مقصد مسکینوں پر آسانی تھی،اب الله تعالٰی نے کشادگی فرما دی،تو اب کھاؤ،جمع کرو اور کارثواب میں صرف کرو۔سنو یہ دن ہی کھانے پینے اور ذکر الہٰی کے دن ہیں"تو اس حدیث سے مطلقًا ہر کار ثواب کے لئے بیچنا جائز ہوا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع