30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
چاہئے۔اور اس کو حرام ہونا چاہئے،اور اس کا تصدق بلانیت ثواب ضروری ہونا چاہئے جو مال خبیث کا حکم ہے اس سے ثواب کی امید رکھناگناہ بالائے گناہ ہونا چاہئے اور یہ سب باطل ہے۔کیونکہ یہاں تصدق اور طلب ثواب کی نیت سے یہ بیع ہوئی، |
فثبت ان لیس کل تبدل بمستھلك تمولا و ان البیع للتصدق خارج عنہ فکذا السائر القرب اذلا فارق یقضی بکون ہذا تمول وذاك غیرہ ومن ادعاہ فلیات ببرھان علی دعواہ ولم یقدر علیہ ان شاء اﷲ۔ |
پھر بھی امام عینی نے اس کو جائز قرار دیا،توثابت ہوگیا کہ مستملك سے بیع مطلقًا تمول کے لئے نہیں ہوتی۔
|
فان قال قائل انما جاز البیع للتصدق لان للوسائل حکم المقاصد فالبیع للتصدق مثل التصدق و التصدق جائز فکذا البیع لہ تقدیر آخر اشمل و اظہر لبیان الفرق تظہربہ المسائل جمیعا ان شاء اﷲ تعالٰی۔ قلت کذلك البیع للتقرب مثل القرب والتقرب جائز فکذا البیع لہ بل یلزم علیہ جواز البیع للاکل ایضا لجواز الاکل بنص القراٰن العظیم فالحق فی التعلیل ماقدمنا عن الامام الزیلعی من انہ قربۃ [1] وحینئذ لابد من کلیۃ الکبرٰی القائلۃ بان کل قربۃ تجوزہہنا ینتج ان البیع للتصدق یجوز ہہنا وبہ یتضح جواز سائر القرب وضوح الشمس فی رابعۃ النہار ھذا وللعبد الضعیف لطف بہ القوی اللطیف |
ایك اور سوال وجواب:اگر کوئی یہ کہے کہ صدقہ کی غرض سے بیع جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیع صدقہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اور جو حکم مقصد کا ہوتا ہے وہ وسیلہ کا بھی ہوتاہے صدقہ جائز ہے تو اس کا وسیلہ بیع بھی جائز ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تاویل بعینہٖ دیگر کا رثواب میں بھی جاری ہے کہ یہ سارے کار ثواب جائزہیں،تو اس کے لئے بیع بھی جائز ہونا چاہئے بلکہ اس توجیہ سے تو اشیائے مستہبلکہ کے عوض بیچنا بھی جائز ہونا چاہئے۔مثلا غلہ کے عوض کھال بیچیں اور غلہ کو اپنے استعمال میں لائیں کہ قربانی کو کھانا جائز اور بیع اس کے حصول کا ذریعہ،اور جو حکم مقصد کا وہی ذریعہ کا،تویہ بیع بھی جائز۔حالانکہ اس بیع کے ناجائز ہونے کا جزئیہ کلام ائمہ میں موجود ہے۔ تو ثابت ہوا کہ اصل علت جوا زیہ نہیں کہ وسیلہ مقاصد کے حکم میں ہے بلکہ اصل علت وہی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع