30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہت بڑا ہے۔وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سلطان روم کے ساتھ اور غیر قوم ملکی جو لڑ رہا ہے۔یہ اظہر من الشمس ہے اور اس س لڑائی کے خرچہ کے بابت اس دیا رکے بڑے بڑے آدمی مل کر مجلس کررہاہے۔کہ اس سال قربانی کاچمڑا ك قیمت جتنا ہوگا وہ سب وہاں بھیجنا ہوگا،اور وہاں بھیجنے سے ہم لوگوں کا ثواب بہت ہوگا اور جہاد کا رتبہ ملے گا، اور ہم لوگ جاکر سلطان کی لشکر کے ساتھ ہمراہونے کا کچھ تو سرانجام نہیں رکھتا ہوں یہ ہم لوگوں کے واسطے بس ہے،بعد اس کے کہئے کہ اس دیار فقراء وغرباء لوگ یہ کہہ رہاہے کہ اس برس سلطان کی جہت سے ہم لوگ سب کے سب شاید مارا جاوے گا، یہ سب آہ وزاری انھوں کا سن کے کوئی بیچارہ تھوڑا ہی کچھ علم رکھتا تھا،وہ اپنی زبان سے یہ کلام باہر کیا کہ یہ جو بڑے آدمی اور بعض دو عالم،سلطان کی خیرا خواہی کے واسطے جو کمیٹی کیاہے شاید یہ خیر خواہی نہ ہو گابلکہ یہ بدخواہی ہوگا کیونکہ ہر سال جویہاں کا فقراء وغرباء ومساکین لوگ یہ سب چمڑا کا قیمت اپنے دوزن وفرزند لے کر خوشی سے اوقات بسر کرینگے،اس سال وہ لوگ غم میں دو۲ اوقات بسر کرتے ہیں،اور یہ سب روپیہ اچھانہیں ہے کیونکہ یہ فقیروں کا حق ہے۔اور مجھ کو خوف ہے کہ میرے سلطان المعظم کو کچھ نقصان آجائے اب بڑے دو آدمیوں کو اور بڑے دو عالموں کو جنھوں نے یہ رواج کیاہے۔یہ سزاوار ہے۔کہ گاؤں بگاؤں مجلس کرکے ہر ایك مسلمان سے دو عــــــہ طاقت کے مطابق کچھ چندہ وغیرہ مقرر کرکے سب کو ملا کر وہاں بھیجنے سے اولٰی ہوگا،اور وہ مسکین لوگ اپنا حصہ پاکر اگر خوشی سے دیوے تو بھی بہترہوگا۔جیسے کہ اور جگہ کے فقیر لوگ دے رہا ہے۔اور یہ بھی بہتر ہوگا کہ اس موسم میں ہم لوگوں کواپنے دو حصہ کے مطابق فقیروں کو اور غریبوں کو کچھ ﷲ دیویں،اور بواسطہ اس کے میرے سلطان مدظلہ العظیم کے لئے خدا عزوجل سے مدد چاہوں یہ بات ان بیچارے کا کوئی بڑے آدمی سنتے ہے۔وہ بیچارے کو لعن طعن کررہا ہے۔احقر حضور سے یہ امید کرتاہے کہ کون حق پر ہے اوراگر وہ آدمی ناحق پر ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب:
قربانی کا چمڑا کچھ خاص حق فقراء نہیں،ہر کار ثواب میں صرف ہوسکتاہے۔حدیث میں فرمایا:کلوا وادخروا وائتجروا [1] (کھاؤ،ذخیرہ کرو اور ثواب کماؤ۔ت)اور واقعی جہاں تك معلوم ہے۔
عــــــہ: سوال میں جگہ جگہ دو کا لفظ سائل کا تکیہ کلام ہے۔۱۲ عبدالمنان۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع