30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیلعی وعالمگیری میں ہے:لانہ قربۃ کالتصدق [1](کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹: از قصبہ کٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہانپور محلہ مڑھی مرسلہ عبدالغفار خاں ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں نے اگلے سال گائے قربانی کی تھی،اس کی کھال فروخت کرکے اور وہ روپیہ میں نے خداکی راہ میں اس طرح پر خیرات کیا کہ کھانا پکایا اور بھوکوں کو تقسیم کیا،اورمجھ کو محرم میں چھٹی ملی،اور ادھر اُدھر نہیں ملی،تو مجھ سے دو چار لوگوں نے کہا یہ بیکار خرچ کیا،اس کا عذاب تا قیامت تجھ کو ہوگا،اس واسطے کہ تم نے محرم میں اماموں کو خیرات دی،تم کو چاہئے کہ مسجد یا اسلامیہ مدرسہ میں فرش دئے ہوتے۔یا یہاں ایك فقیر صاحب ایك پیر کا عرس کرتے ہیں ان کو دیاہوتا۔تو تم کو تاقیامت ثواب ہوتا،ورنہ تم عذاب میں داخل ہوگئے،یا حضرات کو بھیجوا دئے ہوتے تو ثواب ہوتا۔
جناب !یہاں اسلامیہ مدرسہ میں سرکاری انتظام ہے۔اور مسجد میں بھی بہت فر ش تھے اس وجہ سے بھوکوں کو کھلادیا میں نے اچھا سمجھ کر،اور آپ کا حال نہیں معلوم تھا کہ جناب کو کٹرہ والے روپیہ روانہ کردیا کرتے ہیں،خیر مجھ سے خطا ہوئی،اب جو حضرت ارشاد فرمائیں وہ فدیہ کرے یا تو اگلے سال کا حرجہ دے یا اس سال کا بھی ویسے ہی خرچ کردے،مجھ کو محرم میں چھٹی ہوگی،بینوا توجروا۔(فدویہ مدرسہ نسواں اسلامیہ کٹرہ)
الجواب:
آپ نے بہت اچھا کیا کہ مساکین کو کھانا کھلایا،یہ بہت بڑے ثواب کی بات ہے نہ کہ عذاب کی ان لوگوں کاکہنا محض غلط ہے۔ خیرات مولٰی تعالٰی کے نام پر ہوتی ہے۔اور اس کا ثواب اماموں کی ارواح پاك کو پہنچا سکتے ہیں،اور وہ ان پر تصدق نہیں بلکہ ان کی نذر ہے۔یہ فقیر بفضلہ تعالٰی غنی ہے اموال خیرات نہیں لے سکتا،ہاں یہ دوسری بات ہے کہ احباب اچھے مصارف میں صرف کرنے کے لئے زکوٰۃ وصدقات کے اموال بھی بھیجتے ہیں کہ اپنی رائے سے مصارف خیر میں صرف کرو۔اور وہ بفضلہ تعالٰی صرف کردئے جاتے ہیں،زکوٰۃ اس کی جگہ اور دیگر صدقات ان کی جگہ،یوں یہ فقیر بھی ان احباب کا شریك ثواب ہو جاتاہےکہ صدقہ اگر سو ہاتھوں پر نکلے گا سب کو ثواب ملے گا،ایك روٹی کا ٹکڑا کہ زید کے مال سے پکا،اور زیدکی بی بی نے خادمہ کے ہاتھ دروازہ کے سائل کو بھیجا،تو زید جس کا مال ہے۔اور بی بی جس نے بھیجا اور خادمہ جس نے جاکر فقیرکو دیا تینوں یکساں شریك ثواب ہے۔اور مولٰی تعالٰی کا فضل
[1] تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۶ /۹،فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۰۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع