30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اضحیۃ لہ [1] رواہ الحاکم فی المستدرك و البیہقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وپیدا ست کہ ہدیہ از بیع چیزے بناشد۔بالجملہ ایں مبنی خود درلحم اضحیہ رواست۔وجلد بالاتر از ونیست،بالاتفاق،وفی الہدایۃ والکافی والتبیین وغیرھا اللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح [2]۔باز آں گاہ کہ جلد بتملیك مضحی درملك متولی آمد،حکم اضحیہ منتہی شد،متولیاں راہر گونہ تصرف درو رواباشد لحصول المطلق وانتہاء الحاجز،وذٰلك قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی اللحم المتصدق بہ علی بریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ھولہا صدقۃ ولنا ھدیۃ [3]رواہ البخاری عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا،ازیں جاست کہ اگر کسے لحم اضحیہ خودش بہ نیت زکوٰۃ بر فقیر تصدق کند زکوٰۃ ادانشود،واگر بغنی ہدیہ داد او از زکوٰۃ خویش بدست فقیرے نہاد زکوٰتش ادا شود،زیرا کہ حکم اضحیہ بآں ہدیہ بپایاں رسید،حالاایں چیزے |
قربانی نہیں،اس کو حاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور انھوں نے بنی کریم صلی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ ہدیہ فروخت کی قسم نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ قربانی کے گوشت میں بھی یہ معنی موجود ہے جبکہ کھال اس سے اہم نہیں ہے بالاتفاق،اور ہدایہ،کافی اور تبیین وغیرہا میں ہےکہ گوشت کھال کے حکم میں ہے صحیح قول میں،پھر جب کھال قربانی دینے والے کی طر ف سے متولی کی ملك کردی گئی تو قربانی کا حکم تام ہوگیا،متولی حضرات کو اب ہر طرح اس میں تصرف کا اختیار ہے۔ممانعت ہونے اور اجازت پائے جانے کی وجہ سے، اور یہ اس طرح کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد اس گوشت کے متعلق جو حضرت بریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کو صدقہ ملا کہ وہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے اس حدیث کو بخاری نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے رویت کیاہے،اسی سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ اگر قربانی کا گوشت فقیر کو زکوٰۃ میں دے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور اگر غنی کو ہدیہ کے طورپر دےا اور اس نے وہ زکوٰۃ میں دے دیاتو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ غنی کو ہدیہ دینے سے قربانی کاحکم تام ہوگیا اور اب غنی کے لئے یہ مملوکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع