30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایبیعہ بالدراھم لینفق الدارھم علی نفسہ وعیالہ، ولو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق [1]۔ |
دراہم کے عوض اپنے یا اپنے عیال پر خرچ کرنے کے لئے فروخت نہ کرے اگر دراہم کے عوض فروخت کیا دراہم کو صدقہ کرنے کے لئے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت) |
(۹)غنی کو ہبہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنا تمول نہیں۔پھر اس غنی کو اختیا رہے چاہے داموں کو بیچ کر اپنے خرچ میں لائے چاہے کسی کی اجرت یا تنخواہ میں دے چاہے اپنی زکوٰۃ میں دے اور اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کہ اب حکم اضحیہ منقطع ہوگیا،وہ اس کی ملك ہے جو چاہے کرے۔
|
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھو لہا صدقۃ ولنا ھدیۃ [2]۔ |
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لے ہدیہ ہے۔(ت) |
قنیہ پھر جامع الرموز پھر ردالمحتارمیں بعبارت مذکورہ ہے۔
|
لکن اذا دفع لغنی ثم دفع الیہ بنیتھا یحسب [3] اھ ای دفع الموھوب لہ بنیۃ الزکوٰۃ جاز واجزأ۔ |
لیکن اگر غنی کو دیا اورغنی نے اپنی زکوٰۃ میں دیا تو زکوٰۃ شمار ہوگی، یعنی موہوب لہ اپنی زکوٰۃ کی نیت سے دے تو جائز ہے۔(ت) |
(۱۰)مسجد میں دے سکتے ہیں:
|
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وائتجروا[4] رواہ ابو داؤد عن نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی بنا پر کہ اجر کماؤ،اس کو ابوداؤد نے حضرت نبشہ ہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت) |
پھر مہتممان مسجدکو اختیارہےکہ اسے بیچ کرجس کام میں چاہیں لائیں اگر چہ امام یا مؤذن یا فراش کی تنخواہ میں۔
|
لان صار ملك المسجد کمسألۃ الغنی المذکورفا نقطع حکم الاضحیۃ۔ |
کیونکہ مسجد کی ملك ہوگئی جس طرح غنی والا مذکور مسئلہ تو قربانی کا حکم ختم ہوگیا۔(ت) |
[1] تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ ۶ /۹ و فتاوی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب السادس ۵ /۳۰۱
[2] صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقات علی مولی ازواج النبی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۲
[3] ردالمحتار باب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۹
[4] سنن ابی داؤد کتاب الاضحیۃ باب حبس الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع