30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا یوجرھا فان فعل تصدق بالاجرۃ [1]۔ |
نہ اجرت پر دے اگر اجرت لی تو صدقہ کردے(ت) |
حاوی الفتاوٰی،فتاوٰی ظہیریہ،پھر درمنقٰی پھر ردالمحتارمیں ہے:
|
لو عمل الجلد جرابا واٰجرہ لم یجز،وعلیہ التصدق بالاجرۃ [2]۔ |
اگر کھال تھیلا بنایا اور اجرت پر دیا تو اجرت کو صدقہ کرے۔اجرت لینا جائز نہیں۔(ت) |
(۶)اپنے اوپر کسی آتے ہوئے کے بدلے میں،مثلا نوکرکی تنخواہ یا کسی کام کی اجرت میں نہیں دے سکتے فانہ ایضا فی معنی البیع للتمول(کیونکہ یہ بھی تمول کے معنی میں ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
|
لایعطی اجر الجزار منہا لانہ کبیع [3]۔ |
قصاب کو اجرت میں نہ دے کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے۔(ت) |
کفایہ،پھر ردالمحتارمیں ہے:
|
لان کلامنہا معاوضۃ لانہ انما یعطی الجزار بمقابلۃ جزرۃ،والبیع مکروہ فکذا مافی معناہ [4]۔ |
کیونکہ یہ دونوں معاوضہ ہیں کیونکہ قصاب کو اس کی مزدوری کے عوض دے گا اوربیع مکروہ ہے تو اس کا ہم معنی بھی مکروہ ہے۔(ت) |
(۷)یونہی اپنی زکوٰۃ کی نیت سے فقیر کو نہیں دے سکتے لانہ ایضا معنی البیع بالدراھم(کیونکہ یہ بھی دراہم کے بدلے میں بیع کے معنی میں ہے۔ت)اور اگر دیں گے تو فقیر اس کا مالك ہوجائیگا اور زکوٰۃ ادا نہ ہوگی،قنیہ پھر شرح نقایہ قہستانی پھر ابن عابد ین علی الدر میں ہے:
|
اذا دفع اللحم الی فقیر بنیۃ الزکٰوۃ لایحسب عنہا فی ظاھر الروایۃ [5]۔ |
جب فقیر کو زکوٰۃ کی نیت سے گوشت دے تو ظاہر الروایۃ میں زکوٰۃ نہ ہوگی۔(ت) |
(۸)فقراء کو دینے کی نیت سے داموں کو بھی بیچ سکتے ہیں کہ یہ اپنے لئے تمول نہیں، تبیین الحقائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع