30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیونکہ یہ صدقہ ہے اور صدقات کی تفصیل کلام الٰہی نے فرمادی:" اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ "[1]الاٰیۃ سورۃ توبہ(صدقات خاص کر فقراء کے لئے ہیں۔ت)اورحکم باری تعالٰی ہے:
|
" فَاِنۡ تَنٰزَعْتُمْ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوۡلِ "[2] |
تو اگر تم کسی معاملہ میں تنازع کرو تو اس کو اﷲ اور رسول کی طرف پھیرو۔(ت) |
لہذا کلام ربانی کی طرف رجوع کی گئی نیز بکرکا بیان ہے کہ برتقدیر صحت قول زید کا اس کا ماخذ کہاں ہے امید کہ مسئلہ کی توضیح مع نقل عبارات فرمائی جائے۔فقط
الجواب:
بیشك ہر مناز عت میں اﷲ ورسول ہی کی طرف رجوع لازم ہے۔مگر ہر ایك کو بلا واسطہ رجوع کی لیاقت کہاں،یہیں دیکھئے آ یہ کریمہ میں صدقات سے زکوٰۃ مراد کہ اسی میں ارشاد ہوتاہے " وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا "[3](صدقات پر کام کرنے والوں پر۔ت)اور بکر نے اسے قربانی وعقیقہ کو شامل کردیا یہ بھی نہ دیکھا کہ اس کے تو گوشت کی نسبت خود قرآن عظیم میں ارشاد ہے:فکلوا منہا [4]اس میں سے خودبھی کھاؤ۔اب کہاں رہی صدقات کی وہ تفصیل جو اس آیہ کریمہ میں بالحصر ارشاد ہوئی تھی کہ " اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ "[5](صدقات فقراء کے لئے ہیں الآیۃ۔ت)یہ بھی نہ سمجھا کہ عوام تك اس کو قربانی کہتے ہیں نہ کہ صدقہ،تو ہر کارتقرب اس میں روا،لہذا امام زیلعی نے شرح کنز الدقائق میں فرمایا:لانہ قربۃ کالتصدق[6] (کیونکہ صدقہ کی طرح یہ قربت ہے۔ت) ہاں ہم نے خاص مسئلہ میں اﷲ عزوجل کی طرف رجوع کی تو اس کا ارشاد پایا،
|
" فَکُلُوۡا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیۡرَ ﴿۫۲۸﴾ "[7] |
خوداس میں سے کھاؤ اور ضرورتمند فقیر کو کھلاؤ۔(ت) |
اطعام کے لفظ نے بتایا کہ تصدق ہی واجب نہیں اباحت بھی کافی ہے۔جو محض ایك قربت ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف رجوع کی،تو حضور کاارشاد پایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع