30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکھڑ گیا وہ جائز ہوگا یا ناجائز ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)زید کا قول صحیح ہے۔بیشك اسے امور بروخیر میں صرف کرسکتے ہیں،اور اپنے لئے ایسی چیز جو باقی رکھ کر استعمال کی جائے جیسے ڈول۔مشک،کتاب کی جلد وغیرہ بناسکتے ہیں اور اسے بدرجہ اولٰی مسجد میں دے سکتے ہیں،تصدق جس میں تملیك فقیر ضرور ہے۔صدقات واجبہ مثل زکوٰۃ میں ہے ہر صدقہ واجبہ میں بھی نہیں،جیسے کفارہ صیام وظہار ویمین کہ ان کے طعام میں تملیك فقیر کی حاجت نہیں اباحت بھی کافی ہے،کما فی فتح القدیر [1]وغیرہ عامۃ الکتب(فتح القدیر وغیرہ عام کتب میں جیسا کہ موجود ہے۔ت)چرم قربانی کا تصدق اصلا واجب نہیں،ایك صدقہ نافلہ ہے۔اس میں اشتراط تملیك کہاں سے آیا،بلکہ ہر قربت جائز ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
کلوا وادخروا وائتجروا [2]۔ |
کھاو اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کا کام کرو۔ |
کیا مسجد میں دینا ثواب کاکام نہیں امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں:لانہ قربۃ کالتصدق [3](کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)
کیا مسجد میں دینا قربت نہیں۔اور عجیب منطق یہ ہے کہ مسجد میں دینا تو جائز نہیں کہ تملیك فقیر نہ ہوگی،اور غنی کا اپنے صرف میں رکھنا جائزاس میں تملیك فقیر ہوگئی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)قرن اوپرہی کے حصے کو کہتے ہیں۔جو ظاہر ہوتاہے وہ اگر کل ٹوٹ گیا حرج نہیں ولہذا ہدایہ میں مکسورۃ القرن کو جائز فرمایا، ہاں اگر اند رسے اس کی جڑ نکل آئی کہ سر میں جگہ خالی ہوگئی،توناجائز ہے۔ردالمحتار کایہی مفاد ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: از تلہڑ ضلع شاہجہانپور محلہ ہندوپٹی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۲۰ رمضان ۱۳۳۷ھ
مفتیان کرام ذوی الاحترام کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے۔زید کہتاہے کہ جلد قربانی و عقیقہ مسجد ومدرسہ کے صرف میں آسکتی ہے۔بکر کا قول ہے کسی فقیر کو دی جائے وہ خرچ کرسکتاہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع