30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھالوں کو صرف کردے،تو اس کو ہم محلہ سے خار ج کردیتے ہیں،عندالشرع ایسا کرنا کس حکم میں داخل ہے؟
الجواب:
مسجد میں چرم قربانی صرف کردینا جائز ہے مگر واجب نہیں،دوسرا اگر اور کسی جائز صرف میں خرچ کرے اس پر کوئی مواخذہ نہیں،اس بناء پر اسے محلہ سے خارج کردینا ظلم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: از انبیٹھ تحصیل نکوڑ ضلع سہارنپور مسئولہ سید مظفر صاحب ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے ذی شان مسئلہ محررہ ذیل میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:
(۱)زید پوست قربانی بعینہٖ مسجد میں دینے کو اور اس کی ضروریات میں خرچ کرنے کو خواہ تنخواہ مؤذن ہو یادیگر حوائج مسجد جائز کہتاہے۔اور نیز قربانی کرنے والے کو اپنے استعمال میں لانا،خواہ ڈول بناکر یا دیگر کسی طریقے سے شے معتمد اپنے لئے تیار کرانے کو شرعاجو جائز کہا گیا،تو اسی ڈول کو جو اس نے استعمال کےلئے تیار کرایا تھا مسجد میں اگر دے دے تو زید مذکور اس کو جائز رکھتا ہے اور عمرو ان دونوں امر کو ناجائز کہتاہے۔اور استدلال ہر دو کا کتب فقہ مثل ہدایہ وشامی کی عبارت سے جیساکہ عبارت ہدایہ مطبوعہ اصح المطابع صفحہ ۴۴۸ میں ہے:
|
ویتصدق بجلد ھا لانہ جزء منہا اویعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت کالنطع والجراب والغربال ونحوھا [1]الخ۔ |
قربانی کی کھال کو صدقہ کیا جائے کیونکہ یہ قربانی کا جز ہے یا اس کوخود کام میں لاکرگھر میں خوان یا تھیلا یا چھلنی وغیرہ بنا لے الخ۔(ت) |
زید کہتاہے جبکہ پوست قربانی کی اشیاء قربانی کرنے والا اپنی ذات کے لئے تیار کراکر استعمال کرسکتاہے تو وہ ان کو مسجد میں دے دے تو کیاحرج ہے۔عمرو کہتاہے کہ صدقہ طفر کے معنی تملیك بلا عوض ہے تو مسجد میں پوست قربانی دینا جائز نہ ہوگا،کیونکہ مسجد تملیك کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی،ایسے ہی شارع علیہ السلام نے پوست قربانی کی اشیاء تیار شدہ کو اپنے نفس کے لئے اپنے گھر میں استعمال کرنے کے لئے حکم فرمایانہ کہ مسجد میں اسی شیئ کو اپنی طر ف سے دے دینے کو۔
(۲)دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی گائے وغیرہ کے سینگ کے اوپر کا حصہ نیچے تك ٹوٹا ہو تو ہدایہ میں تو مطلقًا مکسورۃ القرن کوجائز لکھاہے۔اور شامی میں تفصیل اس طرح کہ اگر کسر مخ تك پہنچی تو ناجائز ہے ونیز مشاش یعنی رؤس عظام تك اگر کسر پہنچے تو نا جائز،تو جس جانور کا اوپر والاحصہ نیچے تك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع