30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مطالبہ شرعیہ اصلا صدقہ نیست نہ واجبہ،نہ نافلہ،نہ عامہ،نہ خاصہ،پس شرط تملیك فقیر زیادت ست بر شرع است آری اگر بفقیر بخشید صدقہ خاصہ نافلہ شود وایں معنی موجب آں نبود کہ جزیں کار آں جا ہیچ روا نیست نہ بینی کہ زرے کہ بہ بنائے مسجد یا تکفین میت صرف کنی،اگر بفقیرے دہی،نیز صدقہ خاصہ نافلہ بود،وایں معنی منع نہ کندازصرف زر در کار خودیا درکارخیر،بلکہ آنجا خود مطالبہ شرعیہ بود کہ بنائے مسجد بمحل حاجت،وتکفین میت،ہر دو واجب ست،وبصرف اضحیہ یا چرم او بکار دگر اصلا مطالبہ نیست ناگویند کہ مطلوب شرع صدقہ اوہست ومصرف صدقہ جز محل تملیك نباشد بہ صدقہ اش زنہار از شرع مطالبہ نیست،بلکہ ایں جاسہ کار فرمودہ اند کلو اوادخروا وائتجروا خورید،وبرائے حاجت بردارید،وبکار ثواب صرف کنید،رواہ ابو داؤد [1]عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، ایں سوم خود جمیع میراث ومثوبات راشامل ست،تعمیر مسجد نیز از ان ست،پس بالیقین رواست واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
طور پر ہر گز صدقہ نہیں ہے۔نہ واجب،نہ ہی نفلی،اورنہ عام نہ خاص پس اس میں تملیك فقیر کی شرط کرنا شرع پر زیادتی ہے۔ہاں اگر فقیر کو دے گا تو خاص نفلی صدقہ ہوگا،اس کا یہ مطلب نہیں کہ فقیر کے بغیر کسی کے لئے رواہ نہیں،دیکھئے جو زر آپ نے مسجد کی تعمیر پر کیا یا میت کے کفن پر خرچ کیا اگر فقیر کو دیتا تو وہ بھی خاص نفلی صدقہ ہوجاتا جبکہ وہ اس چیز کو مانع نہیں کہ آپ خود اپنے صرف میں یا کسی بھی کار خیر میں صرف کریں بلکہ مسجدکی تعمیر ضروری ہو یا کفن دینے کی حاجت ہو،تو شرعی مطالبہ ہے اور یہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں حالانکہ چرم قربانی کو کسی کام پر خرچ کرنے کا شرعا کوئی مطالبہ نہیں ہے تاکہ یہ کہا جائے کہ اس کو صدقہ کرنا شرعا مطلوب ہے اور اس صدقہ کا مصرف تملیك کے بغیر نہیں ہوسکتا جبکہ شرع نے اس کو صرف کرنے کا کوئی بھی حکم نہیں دیا،ابوداؤد نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:کھاؤ، ذخیرہ کرو اور اجر کماؤ،یہ تین کام کرنے کا حکم فرمایا جبکہ تیسرا حکم تمام نیکیوں اور ثواب والے مقامات کو شامل ہے اور مسجد کی تعمیر بھی نیکی کا کام ہے۔لہذا اس کا مصرف تعمیر مسجد کے لئے بالیقین جائزہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۷۲: از ملا محمد اسمعیل ابن محمد رمضان در مسجد رنگریزاں پالی تاریخ ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہم لوگ سب محلہ قربانی کی کھالیں ہمارے محلہ کی مسجد میں دیتے ہیں تاکہ مسجد کی ڈول،رسی وچراغ وبتی میں امداد پہنچے،اوراگر سوائے ہماری مسجد کے اور جگہ ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع