30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۱: ا ز جز میرہ ضلع فرید پور ڈاك خانہ خاص مرسلہ مولوی مفیض الدین صاحب قاضی ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
|
ماقولکم ونفع المسلمین بعلو مکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ تعمیر مسجد ازچرم جائز ست یا نہ وتصدق بچرم اضحیہ از قبیل تطوعات ست یا از واجبات،ودر ادائے صدقہ واجبہ تملیك مشروط ست،ھکذا درادائے صدقہ نافلہ تملیک، مشروط است یانہ؟ |
آپ کا کیا ارشاد ہے اور اﷲ تعالٰی آپ کے علوم سے مسلمانوں کو نفع دے،اس مسئلہ میں کہ قربانی کے چرم سے مسجد کی تعمیر جائز ہے یانہیں؟ قربانی کے چرم کا صدقہ واجب ہے یانفل؟ اور صدقہ واجبہ کی ادائیگی میں تملیك شرط ہے کیا نفلی صدقہ کی ادائیگی میں بھی تملیك شرط ہے یانہیں؟(ت) |
الجواب:
|
صدقہ باطلاق عام درگرد تملیك نیست کما نطقت بہ الاحادیث الکثیرۃ وحققناہ فی فتاوٰنا منہا قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مااطعمت زوجتك فہو لك صدقۃ، وماا طعمت ولدك فہو لك صدقۃ۔وما اطعمت خادمك فہو لك صدقۃ [1]۔بلکہ کفارہ صوم وظہار ویمین خود واجب ست،وشك نیست کہ از قسم صدقہ است،ولہذاغنی را روا نیست،معہذا تملیك لامز نکردہ اند۔اباحت دارد کما نصوا علیہ قاطبۃ برچرم اضحیہ راسا ہیچ وظیفہ از شرع معین نیست، روا ست کہ باستعمال خود دارد،یابغنی ہدیہ کند پس اوبمعنی |
مطلق صدقہ تملیك کا پابند نہیں ہے جیسا کہ کثیر احادیث اس پر ناطق ہیں اور اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے ایك حدیث یہ ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ واسلام کا ارشاد ہے:جو تو نے اپنی بیوی کو کھلایا صدقہ ہے اور جو تو نے اپنی اولادکو کھلایا وہ تیرا صدقہ ہے اور جو تو نے اپنے خادم کو کھلایا ہے وہ تیراصدقہ ہے۔بلکہ کفارہ صوم،ظہار اور قسم،واجب ہے اور شك نہں کہ از قسم صدقہ ہے اسی لئے غنی کو کھانا جائز نہیں اس کے باوجود تملیك لازمی نہیں ہے بطور اباحت دیناجائز ہے جیساکہ تمام فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔چرم قربانی پر تو کوئی شرعی حکم معین نہیں ہے خود استعمال کرناجائزہے یا کسی غنی کو ہدیہ کردے تو شرعی مطالبہ کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع