30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈول یا کتابوں کی جلدیں بنوالے،یا کسی ایسی ہی چیز سے جو باقی رکھی جاتی ہے بدل لے۔مثلا ان کے بدلے برتن یا کتاب خرید لے۔یا بعینہٖ کھال اپنے عزیزوں،قریبوں خواہ کسی غنی کو دے دے،یا مسجد یامدرسہ دینی میں دے دی جائے،یا اسے تقریب الی اﷲ کےلئے بیچ کر اس کے دام فقراء مساکین طلبہ وغیرہم مصارف خیرکو دئے جائیں،خواہ ایك کو سو کو،یہ جو اس شخص نے کہا کہ ایك چمڑے کی قیمت یا ایك چمڑا دو کو دینا منع ہے۔محض جھوٹ کہا،اور شریعت مطہرہ پر افترا کیا،اور اس کا یہ کہنا کہ پیش امام کو جبرا لینے سے بھی گناہ نہیں،شریعت پر اس کا دوسرا افتراء اورظلم کوجائز کرناہے۔اور اس پر وہ سخت جرأت کہ اس پر جو سزا ہو وہ اپنے ذمہ لی،عذاب الٰہی کو ہلکا سمجھنا اور معاذ اﷲ کلمہ کفر ہے۔اس کی امامت جائز نہیں،اور پیش امام اگرکھالیں لینے پر جبر کرے اس سے باز نہ رہے تو یہ بھی فاسق معلن ہے۔اور اس کا امام بنانا گناہ اور اس جبرًالینے میں جو اس کی مدد کرے وہ سخت شدید گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔حدیث میں ہے:
|
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام [1]۔ |
جو دانستہ ظالم کی مدد کوچلا وہ اسلام سے نکل گیا۔(ت) |
اور جو شخص امام کو کھال نہیں دیتے خواہ وہ تنخواہ پاتاہویانہ پاتا ہو،اس میں ان پر کوئی شرعی الزام نہیں کہ امام کو دینا شرع نے واجب نہ کیا تھا،نہ کھال امام کاحق تھی کہ اس کی حق تلفی ہوتی،اس پر جوامام نے اس مسلمان کو وہ سخت بدعا دی کہ"وہ خدہی مستحق غضب ہوا،العیاذ باﷲ تعالٰی کہ اس نے مسلمان کو ناحق ایذا دی،اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ [2]۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی۔(ت) |
مسئلہ ۲۶۵ تا ۲۶۹: از سنھبل محلہ رحمن سرائے مرسلہ احمد خاں صاحب ۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱قربانی کے جانور کی کھال دام صاحب قربانی اپنے مصرف میں لائے یانہیں؟ اور ۲قربانی کا گوشت کس طرح تقسیم کرے؟ اور ۳قربانی کے چمڑے کو بحق پیش امام دے یانہیں؟ اور مسجد میں صرف کرے یا مدرسہ علم القرآن وحدیث میں؟ اور سری قربانی کی حجام اپنا حق سمجھ کرلے تو دے یانہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع