30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی عنہ۔ |
تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت) |
تبیین الحقائق وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
|
لو باعہابالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق [1]۔ |
اگر دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کا صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت) |
ثابت ہو اکہ خاص تصدق ضرور نہیں بلکہ ہر وقت۔ہاں اس سے اپنا تمول ممنوع ہے کہ اپنے خرچ کے لئے روپوں یا کسی ایسی چیز سے بدلے جوخرچ ہوجاتی ہے۔بنایہ شرح ہدایہ للامام العینی میں ہے:
|
المعنٰی فی عدم الشتراہ مالاینتفع بہ الا بعد استہلاکہ انہ تصرف علی قصد التمول وھو قدخرج عن جہۃ التمول [2]۔ |
کھال کے بدلے ایسی چیز نہ خریدناجس کو ہلاك کرنے کے بعد انتفاع حاصل کی ممانعت کا مطلب ما حاصل کرنے کی غرض سے تصرف مراد ہے جبکہ اس صورت میں تمول کی جہت خارج ہوگیا۔(ت) |
ظاہر ہے کہ مسجد میں صرف کرنا تمول سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا بلکہ تصرف عــــــہ باطل ہے۔کوئی ذی شعور ایسا نہیں کہہ سکتا نہ کوئی ذی علم۔ اُن مدعیوں پر فرض ہے کہ اولا شرح مطہر سے اس کا ثبوت دیں کہ جس مسجد کی مرمت پرست قربانی سے ہوئی ہو اس میں نماز ناجائز ہے۔جب وہ ثبوت دینے کاا رادہ کریں گے ان پر کھل جائے گا کہ ان کی دونوں باتیں محض بے اصل تھیں وباطل تھیں ان پر توبہ فرض ہے کہ شرع مطہر پر افتراء بہت سخت چیز ہے۔اﷲ تعالٰی ہمارے بھائیوں کو توفیق خیر دے آمین۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۴: از رنگون مگول اسٹریٹ یونانی ڈسپنسری(یونانی شفا خانہ مرسلہ حکیم محمد ابراہیم راندیری ۲۷ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
اس بستی میں دستور ہےکہ قربانی کی کھالیں مسجد کے پیش امام کو دے دیتے ہیں اگر نہ دی جائے تو جھگڑا بھی ہوتاہے اور پیش امام صاحب بھی یوں فرماتے ہیں کہ قربانی کی کھالوں کامیں حقدار ہوں،ضرور مجھے دی جائیں،اور اہل جماعت یوں کہتے ہیں کہ پیش امام صاحب کو قربانی کی کھالیں تبرعا دینا جائز ہیں نہ کہ جبرا۔
عــــــہ: فی الاصل ھکذا لعلہ من قلم الناسخ والصحیح بلکہ اس کو تمول کہنا تصرف باطل ہے۔۱۲ عبدالمنان الاعظمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع