30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھال کی جس طرح جانماز یا کتابوں کی جلدیں یا مشکیزہ اپنے لئے بنواسکتاہے یونہی کسی غنی کو بھی ہدیہ دے سکتاہے اگر چہ وہ غنی امام ہو،جبکہ اس کی تنخواہ میں نہ دی جائے،اور اگر تنخواہ میں دے تو امام اگر اس کا نوکر ہےجس کی تنخواہ اسے اپنے مال سے دینی ہوتی ہے تو دینا ناجائز۔کہ یہ وہی تمول ہوا جو ممنوع ہے۔اور اگر وہ مسجد کانوکر ہے جس کی تنخواہ مسجد دیتی ہے تو جائز نہیں کہ یہ مسجد میں دے دے،او رمسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دی جائے۔قربانی کی کھالوں میں امام کا کوئی حق نہیں اور اسے جبرًا لینا حرام ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقہ سے نہ کھاؤ،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵۶: از کیلا کھیڑا ڈاکخانہ بازپور ضلع نینی تال مرسلہ عبدالمجید صاحب ۱۱ ذی قعدہ ۱۳۳۵ھ
اس علاقہ میں یہ رسم ہے کہ بقر عید کی قربانی کی کھال مسجد کے پیش امام کو دیتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
قربانی کی کھال امام مسجد کو دیناجائزہے اگر وہ فقیر ہو،اوربطور صدقہ دیں،یا غنی ہو اور بطور ہدیہ دیں،لیکن اگر اس کی اُجرت اور تنخواہ میں دیں تو اس کی دو صورتیں ہیںِ اگر وہ اپنا نوکر ہے تو اس کی تنخواہ میں دینا جائزنہیں۔اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے اور کھال مہتمم مسجد کو مسجد کے لئے دے دی اس نے مسجد کی طرف امام کی تنخواہ میں دے دی تو اس میں کچھ حرج نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: محمد عبدالحافظ صاحب،میمن سنگھی مدرس مدرسہ یاکد سرپوست لکھیا ضلوع میمن سنکھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی جلد سے مسجد بنانا اور مسجد کے چونا لگا اور مرمت کرنا اور چٹائی وفرش خریدنا جائز ہے یانہیں؟ بدلائل کتب صافیہ و عبارات صحیحہ سے بیان فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
جائز ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
کلو اوادخرو وائتجروا [1]۔رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی ﷲ |
کھاؤ اور اٹھارکھو اور ثواب کے کاموں میں خرچ کرو(ا سے ابو داؤد نے نبشہ ہذلی رضی اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع