30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵:مرسلہ سید محمد حسن علی قاضی،مہدیوا علاقہ اندور محلہ جمال پورہ بروز یك شنبہ تاریخ ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کیسے شخص کو دینادرست ہے اور جائز ہے اور گر قربانی کی کھال صاحب نصاب کو دے دیں تو قربانی اس کی جائز ہوئی یانہیں؟ اگرقربانی کی کھال صاحب نصاب کو کہ"وہ پیش امام بھی مسجد کا ہے۔دے دی،تو قربانی انس کی درست اور جائز ہوئی یانہیں؟ اور اگر قربانی کی کھال مسجد کے پیش امام کا حق سمجھ کر اس کو دے دی جائے،یا وہ پیش امام ان کھالوں کو اپنا حق سمجھ کر بزور لے تو ان کھالوں کا اس شخص کو دینا درست اور جائز ہے یا نہیں؟ اور قربانی ان لوگوں کی درست ہے اور جائز یانہیں؟ اگر قربانی کی کھالیں کسی مسجدکی تعمیر کےکام میں لائیں یا ان کو فروخت کرکے مسجد کے جانماز بنوالیں،یا مسجد کے اور کام میں لائیں،مثلا مسجد کا سقاد ابنوالیں،یا مسجد میں اس کی قیمت کا پانی ڈلوائیں تاکہ سب نمازی وضو کریں،یا مسجد میں آفتابے بنوائے جائیں تاکہ نمازی وضو کریں،ان سب صورتوں میں قربانی درست اور جائز ہوئی یانہیں؟ بحوالہ حدیث وآیات کتب معتبرہ تحریر فرمائیں اجر ملے گا دن قیامت کے نزدیك اﷲ جل شانہ، کے۔
الجواب:
قربانی راقۃ دم لوجہ اﷲ کانام ہے۔واجب اس قدر سے اداہوجاتاہے۔پھر اس کے گوشت پوست کے لئے تین صورتیں ارشاد ہوئیں ہیں،بعینہٖ اپنے صرف میں لایاجائے،یا وقت حاجت کے لئے ذخیرہ رکھا جائے،یا اس سے ثواب کا کام کیا جائے۔
|
کلوا وادخروا وائتجروا [1]۔ |
کھاؤ اور اٹھا رکھواور ہر وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔(ت) |
ثواب میں وہ مسجد کے سب کام داخل ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے اجزائے اضحیہ سے صرف تمول ممنوع ہےکہ اس کے دام کرکے اپنے کام میں لائے جائیں۔
|
من باع جلد اضحیۃ فلا اضحیۃ لہ [2]۔ |
جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی اس کی قربانی نہ ہوئی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع