30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارشاد فرمایا وہ کام کرو جس میں ثواب ہو،رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ(اسے ابوداؤد نے نبشہ ہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) امام زیلعی شرح کنز میں فرماتے ہیں:
|
لو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق [1]۔ |
اگر ان کو دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت) |
معلوم ہوا کہ عین تصدق لازم نہیں،بلکہ قربت ہونا درکار ہے۔تصدق بھی اسی لئے مطلوب ہوا کہ قربت ہے۔تو جو قربت ہو سب کی وسعت ہے۔ہاں بہ نیت تمول اپنے صرف میں لانے کو اس کے دام کرناجائز نہیں۔حدیث:
|
من باع جلد اضحیۃ فلا اضحیۃ لہ۔رواہ الحاکم [2] و البیہقی عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
جس نے قربانی کی کھال فروخت کی تواس کی قربانی نہ ہوئی،اس کو حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت) |
کایہی محمل ہے۔اور حدیث صحیحین میں مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اپنے شتران قربانی حج کی نسبت حکم فرمانا کہ ان کا گوشت پوست صدقہ کردیں [3]۔جو از تصدق کی دلیل ہے نہ کہ تعین تصدق کی،ورنہ اکل واذخار بھی ممنوع ہوجائے حالانکہ بالاجماع جائزومنصوص ہے۔وہ واقعہ حال ہے۔اور وقائع حال کے لئے عموم نہیں، اسی حدیث میں ان کی نکیلیں اور جھولیں تصدق کردینے کا بھی حکم ہے تو یہ جواد کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بخشش تھی نہ کہ عام تشریع،ہاں جس نے تمول کے لئے بیچی وہ ان داموں کو تصدق ہی کرے کہ اول ان کا حصول بروجہ خبیث ہے۔اورجو مال یوں حاصل ہو اس کی سبیل تصدق ہے۔عبارت ہدایہ کا یہی مطلب ہے۔خود ہدایہ میں فرمایا:
|
المعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول [4]۔ |
وجہ یہ ہے کہ اس نے مال بنانے کی غرض سے تصرف کیا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع