30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق [1]۔ |
اگر صدقہ کرنے کی غرض سے دراہم کے بدلے فروخت ہو توجائزہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت) |
مگر فنائے مسجد میں پائخانہ بنانا قربت نہیں بلکہ ممنوع ہے کہ مسجد کو بوئے بد سے بچانا واجب ہے۔او ر اس کی فنا کا اد ب بھی اسی کی مانند ہے یہاں تك کہ علماء نے فنائے مسجد میں بعد مسجدیت جدید دکان بنانے کی ممانعت فرمائی کہ باعث بیحرمتی،فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
قیم المسجد لایجوز لہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجد اوفی فنائہ لان المسجد اذا جعل حانوتا و مسکنا تسقط حرمتہ وہذا لایجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد۔کذا فی محیط السرخسی [2]۔ |
مسجد کے منتظم کو جائز نہیں کہ مسجد کی حدود میں دکانیں بنائے، کیونکہ مسجد یا فنائے مسجد کو دکانیں بنایا تو مسجد کی حرمت ساقط ہوگی اور یہ جائز نہیں ہے۔جبکہ فنائے مسجد بھی مسجد کے تابع ہے تو اس کا حکم بھی مسجد والا ہوگا،محیط سرخسی میں یوں ہے۔ (ت) |
ہاں اگر حدود وفنائے مسجد سے دور کوئی پائخانہ مسافروں اور بے گھر نمازیوں کے متعلق مسجد ہے تو اس کی تعمیر یا مرمت ضروری بھی نیت صالحہ سے ضرور قربت وموجب اجرہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷:مولانا مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی بالائے قلعہ مدرس اول مدرسہ منظر الاسلام یوم یك شنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کھال قربانی بیچ کر مسجد بنانا درست ہے یانہیں؟ اور کوئی عمارت مثل مسافر خانہ،نشست کی چوپال جس میں مسافر یا اپنے ہم قوم مقیم ہوسکیں بینوا توجروا
الجواب:
مسجد یالوجہ اﷲ مسافر خانہ وغیرہ آرام مسلمانان کی عمارت بنانا جس میں اجر ہو اور حصول اجر ہی کی نیت ہو،بالجملہ ہر اس کام میں جو شرعا قربت ہو،قربانی کی کھال صرف کرنا ہر گز ممنوع نہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اضحیہ کی نسبت جیسا تصدقوا فرمایاصدقہ کرو،یونہی وائتجروا [3]بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع