30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۴۳:از بنارس محلہ کنڈی ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چرم قربانی واسطے تعمیر مسجد واشیاء متعلقہ مسجد مثل بوریا،بدھنا،فرش،شامیانہ وغیرہ یا برائے درستگی قبرستان کے دینا جائز ہے یانہیں؟ درصورت عدم جواز کے اگر کوئی شخص مصرف مذکور میں صرف کرے۔یاسرا پایہ وغیرہ ہندو کافر کو دے،تو اس کی قربانی درست ہوگی یانہیں؟
الجواب:
قربانی اراقہ دم لوجہ اﷲ سے ہوجاتی ہے کما نص علیہ العلماء قاطبۃ(جیساکہ علماء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ت)اس کے بعد کھانے،دینے،دلانے سے اس میں کچھ فرق نہیں آتااگر چہ کسی کودے،اور چرم کے باب میں ابھی بیان ہوا کہ ہر قربت روا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴: از موضع کٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی عبدالکریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۷ ۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت پوست قربانی مرمت مسجد اور بوریاں وغیرہ مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور غسل خانہ،پاخانہ واردین مسجد کے لئے اس قیمت سے بنوانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
اصل یہ ہے کہ اراقہ دم سے اقامت واجب کے بعد اجزائے اضحیہ سے صرف تمول ممنوع ہے خاص تصدق ضروری نہیں بلکہ جمیع انواع خیر کہ مثل تصدق قربت ہیں،سب جائز ہے۔اوربلا بیع خود اپنے تصرف میں لانا دیگر احباب اغنیاء کو ہدیہ دینا بھی جائز۔
|
کما طفحت بنقول ذٰلك کتب المذہب المعتمدہ ولنا فی خصوص ذٰلك رسالہ حافلۃ سمیناھا"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"۔ |
جیسا کہ تم نے مذہب کی کتب معتمدہ سے فائدہ پایا،اور خاص اس مسئلہ میں ہمارا جامع رسالہ ہے ہم نے اس کا نام"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"رکھا ہے۔(ت) |
حدیث میں ہے رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
کلوا اوادخروا وائتجروا [1]۔ |
کھاؤا ور اٹھا رکھو،اور وہ کام کرو جس سے ثواب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع