30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(مقصد یہ ہے کہ مال کے حصول کی غرض سے تصر ف نہ کرے۔ت)
اس تحقیق وتنقیح سے واضح ہوا کہ علماء جو ایك شق تصدق کی لکھتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں کہ تصدق عین ضروری ہے یعنی خاص اسی چیز کو بغیربد لےخیرات کرے بلکہ مطلقًا ہر شیئ کےعوض بیچ کر خیرات کرنی جائز ہے خواہ روپے پیسے ہوں یا اشیائے خوردنی یا اعیان باقیہ،نہ عین تصدق ضرور ہے۔جس کے حقیقی معنی فقیر کو مالك کرنا۔
|
کما فی الزکاۃ من فتح القدیر حقیقۃ الصدقۃ تملیك الفقیر [1]۔ |
جیساکہ فتح القدیر کے زکوٰۃ کے باب میں ہے کہ صدقہ کی حقیقت فقیر کو مالك بنانا ہے۔(ت) |
بلکہ مطلقًا ہر مصرف خیر میں صرف کرنا جائز ہے اگر چہ اس میں کسی کی تملیك نہ ہو،جیسے کفن موتٰی ونفقہ مسجد وغیر ذٰلک، و لہذا اباحت روا ٹھہری،اور علامہ زیلعی کی عبارت مذکور نے صاف واضح کردیا کہ قربت چاہئے خاص تصدق کی کوئی خصوصیت نہیں،اور خود ظاہر ہے کہ جب بے صورت تمول اپنے اور اغنیا کے صر ف میں لانا رواہوا۔اور جانور کا قربت کے لئے ہونا اس کا مانع نہ ٹھہرا تو مصارف خیر جس میں اصلا بوئے تمول نہیں اور خود امور قربت ہیں،بدرجہ اولٰی جائز ہوں گے۔
اب حکم مسئلہ بحمدالہ روشن ہولیا،بہ نیت تصدق داموں سے بچنا عبارت فتاوٰی ہندیہ سے گزرا اور مسجد کی چٹائی وغیرہ میں صرف کرنا بھی قربت ہے۔نہ اپنا تمول جو ممنوع ٹھہرا،پس دونوں صورت مسئولہ سائل کاحکم جواز ہے۔یہ بحمداﷲ تعالٰی وہ تحقیق ہے جس سے اس فصل کی تمام جزئیات کا حکم نکل سکتاہے۔
|
فاتقن ھذا لعلك لا تجدہ بہذا الایضاح والتحریر فی غیر ھذا التحریر،ولا علیك من خفائہ علی بعض عــــــہ ابناء الزمان المدعین العلم العزیز،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
اس کو مضبوط کرو ہوسکتاہے اس وضاحت اور صفائی سے تمھیں کسی اور تحریر میں نہ ملے اور موجودہ زمانے کے مدعین علم پر اس کے مخفی ہونے پر تمھیں تعجب نہ ہو،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
عــــــہ:مولوی رشید احمد گنگوہی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع