30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی حرج نہیں۔وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۲: مرسلہ حاجی الہ یار خان صاحب تاجر کتب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
قربانی کی کھال کو بہ نیت تصدق فروخت کرنا یا اس کی قیمت سے بوریا وغیرہ خریدکر مسجد میں رکھا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
جائزہے کہ تصدق کے لئے بیچا یا مسجد کےصرف میں لانا دونوں قربت ہیں،اوریہاں وہی مقصود،لاعین التصدق ولا تصدق العین(نہ کہ عین التصدق اور عین چیز کا تصدق۔ت)عالمگیری میں ہے:
|
لایبیعہ بالدراہم لینفق الدراہم علی نفسہ و عیالہ،ولوباعہا بالدراہم لیتصدق بہاجاز،لانہ قربۃ کالتصدق کذا فی التبیین [1] اھ ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اپنے یا اپنی عیال پر خرچ کرنے کے لئے قربانی کی کھال کو دراہم سے فروخت نہ کرے اور اگر دراہم کا صدقہ کرنا ہو توجائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح عبادت ہے تبیین الحقائق میں یوں ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
ایضاح الجواب اصل یہ کہ اضحیہ مثل دم قران وتمتع وذبح تطوع دم شکر ہے ان میں قربت مقصودہ صرف اراقہ دم لوجہ اﷲ سے حاصل ہوجاتی ہے۔ولہذا ان کے لحم وغیرہ کا تصدق واجب نہ ہوا،اور خو دکھانے کی بھی اجازت عطا فرمائی۔
|
قال تعالٰی " فَکُلُوۡا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ؕ"[2]،وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا واطعموا و ادخروا،اخرجہ احمد والشیخان[3] ان سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا قربانی سے خود کھاؤں اور قناعت والے اورمحتاج کو کھلاؤ،اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:کھاؤ،کھلاؤ اور ذخیرہ کرو،اس کو احمد اور شیخین نے سلمہ بن الاکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت) |
اور کھال کی کوئی چیز مثل مشکیزہ وغربال وپوستین توتشہ دان وفرش وتکیہ دجلہ کتا ب وغیرہا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع