30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جائز ہے۔
|
فی التنویر یضحی بالجماء لامقطوع اکثرالاذن او الذنب[1]۔فی الدرالمختار للاکثر حکم الکل بقاء و ذھابا۔فیکفی بقاء الاکثرعلیہ الفتوی[2]۔فی الہندیۃ تجزئی الشرقاء وہی مشقوقۃ الاذن طولا،والمقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنہا شیئ،ولا یبان بل یترك معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذٰلك بمؤخر الاذن، والنہی محمول علی الندب کذا فی البدائع [3]اھ مختصرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تنویرا لابصارمیں ہے جماء جس کا پیدائشی سینگ نہ ہو کی قربانی کی جائے نہ کہ اس کی جس کا کان یا دم اکثر کٹی ہو،درمختار میں ہے اکثر کاحکم کل والا ہو تاہے بقاء اور ضیاع میں تو اکثر حصہ کی بقاء کافی ہے۔اور اسی پر فتوٰی ہے۔ہندیہ میں ہے شرقاء جائز ہے یہ وہ ہے جس کا کان لمبائی میں کٹا ہو۔او مقابلہ جائز یہ وہ ہے جس کا کان آگے سے کٹاہو،اور جدا نہ ہوا ہو بلکہ لٹکتا ہو، اور مدابرہ جائز ہے،یہ وہ ہے جس کان پیچھے سے ایسے کٹا ہو اور ان سے نہی تنزیہہ پر محمول ہو۔بدائع میں یوں ہے اھ مختصرًا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۴۱: قصبہ کوسی کلاں ضلع متھرا،محلہ مسجد مندی حافظ محمد رمضان پیش امام بروزیك شنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
قربانی کی کھال سید کو یا والدین کو دینا درست ہے یا نہیں۔کتاب مالابدمنہ کے اندر صدقہ نفل سید کو جائز لکھا ہے[4]۔اب یہ امر قابل تحقیق ہے کہ کھال قربانی صدقہ واجب ہے یا نفل ہے۔سید کو قربانی کی کھال دے یانہیں؟ اکثر لوگ قربانی کی کھال دے دیا کرتے ہیں،درست ہے یانہیں؟
الجواب:
قربانی کی کھال سادات کرام کو دینا جائز ہے۔اپنے ماں باپ اولاد کو بھی دے سکتاہے شوہر زوجہ کو زوجہ شوہر کو دے سکتی ہے۔ وہ بہ نیت تصدق ہو تو صدقہ نافلہ ورنہ ہدیہ،سقا کو دینے میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع