30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
چکتی نہ ہو تب بھی دنبہ دنبہ ہی رہے گا۔ |
۴۲۹ |
امام صاحب کے قول پر فتوٰی ہونے کی تصریح عبارت ائمہ سے۔ |
۴۳۲ |
|
تنبیہ نمبر ۲۲ |
۴۲۹ |
تذییل،مجیب اول کی پیش کردہ تین عبارتوں میں ذات الیہ والی تعریف نہیں۔ |
۴۳۳ |
|
چوڑی،موٹی،خوب چربی دار کا نام ہی چکتی نہیں۔ |
۴۲۹ |
مولانا عبدالحَی صاحب لکھنوی کے فتوٰی کا بیان اور ان کے اور مجیب اول کے قول میں فرق کا بیان۔ |
۴۳۴ |
|
چکتی میں چھوٹی بڑی ہونے کی کوئی قید نہیں۔ |
۴۲۹ |
مولانا عبدالحَی صاحب نے بھیڑ کے قربانی کا جانور ہونے کا انکار نہیں کیا،اس کے چھ ماہہ بچے کی قربانی منع کی۔ |
۴۳۴ |
|
قاموس سے چکتی کی تعریف۔ |
۴۳۰ |
مولوی صاحب موصوف کے منشاء غلط کا بیان۔ |
۴۳۴ |
|
یہ تعریف بھیڑ پر بھی صادق آتی ہے۔ |
۴۳۰ |
مصنف کے ایك فتوٰی کا ذکر جس کو مولانا کے کسی شاگرد کے جواب میں لکھا تھا۔ |
۴۳۵ |
|
چکتی کی کوئی مقدار متعین نہیں۔ |
۴۳۰ |
دعااور ختم رسالہ۔ |
۴۳۵ |
|
تنبیہ نمبر ۲۳ |
۴۳۰ |
بھیڑ کے شش ماہہ بچہ کی قربانی کا سوال اور مولوی عبدالحَی صاحب کے فتوٰی ممانعت کا ذکر۔ |
۴۳۶ |
|
فقہاء نے ضان کی تین تعریفیں کیں،ذات الصوف،ذات الیہ، خلاف المعز،اور اردو ترجمہ میش وبھیڑ۔ |
۴۳۱ |
بھیڑ کے چھ ماہہ بچہ کی قربانی جائز ہے۔ |
۴۳۶ |
|
بیان احکام،تعریف یا ترجمہ جو کچھ ہو صرف مساوی سے ہی ہو سکتا ہے۔ |
۴۳۱ |
دنبہ اور بھیڑ ایك ہی نوع ہیں،اور دونوں کاحکم ایك ہی ہے۔ |
۴۳۶ |
|
اس لئے پانچوں الفاظ مساوی اور ہم معنی ہیں۔ |
|
شاہ عبدالقادر صاحب کے ترجمہ سے استدلال کہ انھوں نے ضان کا ترجمہ بھیڑ کیا۔ |
۴۳۷ |
|
تنبیہ نمبر ۲۴ |
۴۳۱ |
فارسی لغت سے ثبوت کہ ضان اورمیش ایك ہی ہے۔ |
۴۳۷ |
|
بھیڑ کی دم بھی الیہ کامل ہے۔ اس کا دبلی ہونا عیب نہیں لہذا اس کی قربانی جائز ہے۔ |
۴۳۱ |
علمائے لغت وتفسیر کا حوالہ کہ انھوں نے ضان کی تفسیر اون والی بکری فرمایا۔ |
۴۳۷ |
|
تنبیہ نمبر ۲۵ |
۴۳۲ |
محاورات عرب اور قرآن سے دونوں کے اتحاد پر استدلال۔ |
۴۳۸ |
|
بھیڑ کی دم کو الیہ نہ تسلیم کیا جائے تو یہ مسئلہ طرفین کا خلافی ہوا۔ اور فتوٰی قول امام پر ہے۔ تو اس کی قربانی جائز ہے۔ |
۴۳۲ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع