30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حصہ کریں جبکہ ایك حصہ سے کم نہ ہوجائزہے۔ہاں اگر ایك نے سوا چھ حصے لئے دوسرے نے پون،تو وہ جانور نرا گوشت ہوگیا، قربانی وعقیقہ کچھ نہ ہوا،نہ اس پون والے کا نہ سوا چھ والے کا،کہ ایك حصہ سے کم میں تقرب نہیں ہوسکتا،اور جب اس کے ایك جز میں نہ ہوا تو کسی جز میں نہ ہوا اﷲ عزوجل ہر شریك سے غنی ہے۔یہ نہیں ہوسکتاہے کہ بعض اس کے لئے اور بعض غیر کے لئے جس کا یك ذرہ غیر کے لئے ہو وہ کل غیر کے لئے ہے۔یہاں جبکہ دو شخصوں میں گائے نصفا نصف ہے تو ہر ایك کے ساڑھے تین حصے ہوئے۔ایك حصہ ٹوٹا مگر اورسالم حصے موجود ہیں،اور قربانی عقیقہ دونوں اﷲ ہی کے لئے ہیں لہذا دونوں صحیح ہوگئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۵: ۹ ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرے دو طرح خصی کئے جاتے ہیں۔ایك یہ کہ رگیں کوٹ دی جائیں،اس میں کوئی عضو کم نہیں ہوتا،دوسرے یہ کہ آلت تراش کو پھینك دی جاتی ہے۔اس صورت میں ایك عضو کم ہوگیا،آیا ایسے خصی کو بھی قربانی جائزہے یانہیں؟ بعض لوگ بوجہ مذکورہ ممانعت کرتے ہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا بلکہ وصف بڑھ جاتاہے کہخصی کا گوشت بہ نسبت فحل کے زیادہ اچھا ہوتاہے۔ فی الہندیۃ عن الخلاصۃ یجوز المحبوب العاجز عن الجماع [1](ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے الخ۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: ۹ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گائے کا کان چرا ہوا ہے جیسے گاؤں کے لوگ بچپن میں کان چیردیتے ہیں کہ طول یا عرض میں شق ہوجاتاہے مگر ووہ ٹکرا کان کا ہی لگا دیتاہے جدا نہیں ہوتا اور اس کے سینگ جو گھوم کر چہرے پرآئے۔اور ایك سینگ آنکھ تك آیا جس سے آنکھ کو نقصان پہنچنے کا احتمال تھا اس اس کی نوك تراش دی گئی۔ایسی گائے کی قربانی شرعاجائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
بلا شبہہ جائز ہے۔مگر مستحب یہ ہے کہ کان،آنکھ،ہاتھ،پاؤں بالکل سلامت ہوں۔
|
فی العالمگیریۃ تجزی الشرقاء وہی |
عالمگیری میں ہے قربانی شرقاء جائز ہے یہ وہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع