30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۲۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سات شخصوں نے ایك راس گائے واسطے قربانی خرید کی،وہ گائے فرار ہو گئی،اس کو ہر چند تلاش کیا سب کانجی ہاؤس اور اس شخص کے مکان پر اور اس کے نواح میں بھی جہاں سے اس کو خرید اتھا،آج وہ گائے بفضلہ تعالٰی ہاتھ آگئی،اب اس گائے کے واسطے کیا حکم ہے اور کس طرح سے ہم کو ثواب قربانی کا حاصل ہوگا؟
الجواب:
ساتوں شخص اس گائے کو زندہ خیرات کردیں کسی فقیر کو دے ڈالیں،بیان سائل سے معلوم ہوا کہ ان میں پانچ شخص صاحب نصاب تھے۔ان پانچوں پر واجب تھا کہ اگر وہ گائے گم ہوگئی تھی اور گائے یا بکریاں لے کر بارھویں تاریخ قربانی کرلیتے،اب کہ بارھویں گزرادی اور قربانی نہ کی،یہ پانچوں گنہگار ہوئے،ان پر تو بہ استغفار واجب ہے۔اور گائے کی نسبت ساتوں پر واجب ہے کہ زندہ خیرات کردیں،ردالمحتارمیں ہے:
|
ذکر فی البدائع ان الصحیح ان الشاۃ المشتراۃ للاضحیۃ اذا لم یضح بہا۔حتی مضی الوقت یتصدق الموسر بعینہا حیۃ کالفقیر بلاخلاف بین اصحابنا فان محمدا قال وھذا قول ابی حنیفہ وابی یوسف و قولنا اھ [1]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بدائع میں ذکر کیا کہ صحیح یہ ہے کہ جو قربانی کے لئے خرید شدہ بکری کی قربانی نہ کرسکا اور وقت گزر گیا تو غنی شخص اس زندہ کو ہی صدقہ کرے جیسا کہ فقیر کے لئے یہ حکم بلاخلاف ہمارے اصحاب میں ہے کیونکہ امام محمد نے فرمایا:یہ امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف اور ہمارا قول ہے رحمہم اﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۲۷: ۱۰ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پردیس میں ہے اس کی جانب سے اس کا کوئی عزیز قربانی کردے توفرض زید پر سے اتر جائے گا یا اجازت کی ضرورت ہے؟
الجواب:
قربانی وصدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلااجازت ناممکن ہے۔ہاں اجازت کے لئے صراحۃ ہونا ضروری نہیں دلالت کافی ہے۔مثلا زید اس کے عیال میں ہے اس کا کھانا پہننا سب اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع