30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبارت میں بھی یہی ہے کہ واجب بالنذر ہوجائے گا یعنی نذر کئے سے واجب ہوگا نہ کہ غنی پر مجرد خریداری سے، درمختارمیں ہے:
|
تصدق بہا ناذر وفقیر شراھا لو جوبہا علیہ بذٰلك (ملخصا)[1] ۔ |
نذر والا اور فقیر جس نے قربانی کی نیت سے خریدا تھا،یہ صدقہ کرینگے کیونکہ نذر اورخریدنے کی بنا پر ان پر واجب ہوگیا تھا (ملخصًا)۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
فلو کانت فی مبلکہ فتوٰی ان یضحٰی بہا،او اشتراھا،ولم ینوالاضحیۃ وقت الشراء ثم نوی بعد ذٰلك لایجب،لان النیۃ لم تقارن الشراء فلا تعتبر، بدائع [2]۔ |
اگر بکری اپنی ملك میں تھی تو نیت کرلی کہ اس کی قربانی کرے گا یا خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ کی ہو پھر بعد میں قربانی کی نیت کی تو اس سے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی کیونکہ خریدتے وقت ساتھ نیت نہ کی لہذا بعد کی نیت معتبرنہ ہوگی،بدائع(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
لوماتت فعلی الغنی غیرھا الا الفقیر،ولو ضلت او سرقت فشری اخرٰی فظہرت فعلی الغنی احدھما و علی الفقیر کلامہا شمنی [3]۔ |
اگر مرجائے تو غنی پر دوسری واجب ہے فقیر پر نہیں،اور اگر گم ہوجائے یا چوری ہوجائے تو دوسری خریدی اور پہلی مل گئی تو غنی پر ایك ہی لازم ہوگی جبکہ فقیرپر دونوں کی قربانی واجب ہوگی شمنی(ت) |
جو شہر نہ ہو اس میں نہ نماز جمعہ ہے نہ نماز عید،سو دوسو کی آبادی کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ اس میں متعدد محلے ہوں،دائم بازار ہوں،وہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں،اس میں فصل مقدمات پر کوئی حاکم مقرر ہو وہ شہر ہے جہاں ایسا نہیں صبح سے قربانی جائز ہے ھو الصحیح الذی علی المحققون کما فی الغنیۃ(وہی صحیح ہے جس پرمحقق حضرات ہیں، جیسا کہ غنیہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع