30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:بیع نفس ایجاب وقبول سے تمام ہو مبیع ملك مشتری میں داخل اور ثمن ذمہ پر لازم ہوتی ہے ادائے ثمن حصول ملك کے لئے شرط نہیں اگر نہ دے گا تو بائع کا مدیون رہے گا مبیع میں ملك تام ہے۔
|
فی التنویر اذ وجدا(ای الایجاب والقبول)لزم البیع [1]۔ |
تنویر میں ہے۔جب ایجاب وقبول پایا جائے بیع لازم ہوجاتی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وصح بثمن حال ومؤجل الی معلوم [2]۔ |
نقد اور ادھار مقرر مدت ہو تو بیع جائز ہے۔(ت) |
پس جب شرکائے مشترین مالك گاؤ تھے اور انھوں نے بہ نیت اضحیہ قربانی کی،سب کی قربانی اداہوگئی،ثمن کا مطالبہ اس شریك پر رہا اگر و ہ نیت قربانی سے دست بردار ہوکر اصلا ذبح نہ چاہتا یا خالی گوشت وغیرہ امور غیر قربت کی نیت سے ذبح چاہتا اور ایسی حالت میں بقیہ شرکاء بہ نیت قربانی ذبح کرلیتے تو کسی کی قربانی ادانہ ہوتی کہ ان میں ایك شریك کی نیت تقرب نہیں۔
|
فی التنویر ان کان شریك الستۃ نصرانیا او مرید اللحم لم یجز عن واحد [3]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
تنویر الابصار میں ہے اگر قربانی کرنیوالے کے ساتھ باقی چھ میں کوئی نصرانی یا گوشت کے ارادے سے شریك ہو تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۲۳: مرسلہ صاحب علی طالب علم از جاورہ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
ایك گائے کو چھ شخصوں نے قربانی کی،ایك کے دو حصے نفلی اور پانچ شخصوں کے واجبی،تو کیا دو حصہ والا شخص بعد ذبح گائے،قبل تقسیم گوشت کے ایك حصہ میں دوسرے شخص کو شریك کرسکتاہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
قربانی اراقہ دم کا نام ہے اور اب اراقہ دم ہوگئی تو دوسرے کی طرف اس کا انتقال ناممکن ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع