30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
دونوں مشتریوں کی رضا سے اس میں کچھ حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۲۱: از موضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب مورخہ ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
(۱)ایك شخص نے قصاب سے گائے منگائی اس نیت سے خریدکر کہ وہ آجائیگی تو جو شریك حصہ ہوں گے شریك سمجھ لوں گا۔
(۲)ای جگہ دیھا کہ فقراء کے گوشت میں آنت،اوجھڑی بالکل ڈال کر تقسیم کرتے ہیں،دو حصوں میں نہیں۔
(۳)ایك جگہ دیکھا ہےکہ سر اورپیر سقے اور حجام کو،اور ایك پارچہ قصاب کو۔
(۴)بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ قربانی یا عقیقہ یا نیاز میں کھانا بھنگی کو دیتے ہیں۔
(۵)قربانی گائے میں نصف ایك شخص ہواور نصف میں دو شریك یا تین،درست یا نہیں؟ اور نصف میں چار ہوجائیں یہ کیونکر ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)جائز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)یہ بیجا کرتے ہیں۔مستحب یہ کہ تہائی حصہ گوشت کا فقیرں کو ملے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)سقے،حجام،قصاب کا قربانی میں کوئی حصہ نہیں،دینے کا اختیار ہے۔مگر قصاب کی اگر یہ اجرت قرار پائی تو حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)بہت برا کرتے ہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۵)نصف میں تین تك شریك ہوسکتے ہیں،اور نصف گائے ایك کی ہو،ا ور دوسرے میں چار شریك ہوں تو ان پانچوں یعنی کسی کی قربانی ادا نہ ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۲: از بلگرام شریف ضلع ہردوئی محلہ میدان پور مرسلہ حضرت سید ابراہیم میاں صاحب ۲۶ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو یا چار سات آدمیوں نے ایك گائے قربانی کے واسطے خرید کی منجملہ ان کے ایك شخص نے قیمت نہ وقت خرید کے ادا کی نہ بعد،اور وہ شریك رہا،پس اس صورت میں کس کی یا اس کی قربانی میں حرج یا غیر جائز تو قربانی نہیں ہوا،جواب اس کا بحوالہ عبارت مرحمت فرمایا جائےکہ ضرورت ہے۔بیّنوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع